قصور: قصور میں بچوں سے زیادتی کے واقعات پروفاقی محتسب کی تہلکہ خیز رپورٹ سامنے آگئی ہے جس میں انکشافات ہوئے ہیں کہ زیادتی کے واقعات میں مقامی سیاست دان، جاگیردار، وکلا اور پولیس سب ملوث ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قصور میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے 272 واقعات رپورٹ ہوئے لیکن سزا صرف 5 مجرموں کو سنائی گئی۔ وفاقی محتسب کے مطابق مقامی سیاست دان اور جاگیردار اثر و رسوخ استعمال کر کے زیادتی کے ملزموں چھڑواتے رہے۔ انہوں نے مجرموں کی مکمل پشت پناہی کی، پولیس بھی اپنا فرض ادا کرنے میں ناکام رہی اور رشوت لے کر تفتیش کو دباتی رہی جب کہ عدالت تک پہنچنے والے مقدمات میں وکلا کا کردار بھی منفی رہا۔رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں کے رشتہ دار کم تعلیم یافتہ یا ان پڑھ تھے، سیاستدان اور جاگیر دار انہیں ڈرا دھمکا کران پر مقدمات واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے۔وفاقی محتسب کے مطابق واقعے کے گواہوں کو تحفظ بھی فراہم نہیں کیا جاسکا جس کی وجہ سے مقدمات کمزور ہوئے اور انصاف تک رسائی بڑا مسئلہ بنی رہی۔رپورٹ میں ایک اور خوفناک انکشاف بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں اضافے کی صورت میں سامنے آیا، جس کے مطابق گزشتہ سال معصوموں کے ساتھ ایسے سنگین جرائم کی شرح  16 اعشاریہ 2 فیصد بڑھ گئی، سیاستدانوں اور جاگیرداروں کی پشت پناہی اور حکومتی اداروں کی بے حسی  کے باعث  ریاست پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ میں ایک مرتبہ پھر ناکام ہوگئی۔