اسلام آباد: سپریم کورٹ نے جعلی ڈگریوں پر از خود نوٹس نمٹاتے ہوئے کہا کہ برطرف افراد قانون کے مطابق متعلقہ فورم سے رجوع کریں۔سپریم کورٹ میں ایئرلائنزعملے کی جعلی ڈگریوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت  پی آئی اے کے برطرف پائلٹ نے کہا کہ میری ملازمت ایف ایس سی کی بنیاد پر تھی، بی ایس سی کی ڈگری کی بنیاد پر نکالا گیا جس پر قومی ایئرلائن (پی آئی اے) کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ برطرف پائلٹ کی بی ایس سی کی ڈگری جعلی تھی، مکمل انکوائری کے بعد ملازمت سے نکالا گیا۔وکیل پی آئی کا کہنا تھا کہ دیگر تمام عملے کی ڈگریوں کی تصدیق ہو چکی ہے اور صرف 6 غیر ملکی ڈگریوں کی تصدیق رہتی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جعلی ڈگری والوں سے کوئی ہمدردی نہیں لیکن جلد بازی یا عدالتی دباؤ میں کسی کو بر طرف نہ کیا جائے، مکمل تصدیق کے بعد ہی کارروائی کی جائے۔سول ایوی ایشن کے وکیل نے کہا کہ ملازمت سے بر طرف کرنا حکومت کا کام ہے، سول ایوی ایشن صرف لائسنس معطل کر سکتی ہے، کیبن کریو کے 65 اور 16 پائلٹس کو جعلی ڈگری پر معطل کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے جعلی ڈگریوں پر از خود نوٹس نمٹاتے ہوئے کہا کہ برطرف افراد قانون کے مطابق متعلقہ فورم سے رجوع کریں۔