سینٹر فار انویسٹی گیٹو جرنلزم : وزارت داخلہ کی منظوری کے بغیر کیو آئی سی ٹی پر بھارتیوں کا غیر قانونی کنٹرول خطرناک ثابت ہو سکتا ہے . وزارت داخلہ کی منظوری کے بغیر پاکستان کی اسٹریٹجک سمندری بندرگاہ قاسم انٹرنیشل کنٹینرز ٹرمینل (QICT) میں بھارتیوں کی غیر قانونی تعیناتی ملک کے سیکورٹی خطرے میں اضافہ کر سکتی ہے۔ یہ بھارتی QICT پر جاسوسی کررہے ہیں کیونکہ اس ٹرمینل کو میسرز ڈی پی ورلڈ گروپ کے ذریعہ کنٹرول کیا جاتا ہے جس کے پاس 75 فیصد حصص ہیں اور بہت سے انتظامی عملے اور بورڈ کے ڈائریکٹرز بھارتی شہری ہیں۔ پاکستان میں امن اور استحکام کو تباہ کرنے کے لئے، QICT کے اس طرح کے خفیہ اور خطرناک کنٹرول سے بھارتی اپنی غیر فعال سرگرمیوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکتے ہیں۔
سینٹر فار انویسٹی گیٹو جرنلزم (سی آئی جے) پاکستان نے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین کو شکایت/خط نمبر 165/سی آئی جے/11/2018 کے ذریعہ 12 نومبر، 2018 کو ملک کو لاحق شدید سیکورٹی خطرے سے مطلع کیا۔ یہ خطرہ PQA، QICT پاکستان لمیٹڈ، میسرز ڈی پی ورلڈ گروپ اور دیگر کے حکام کے غیر قانونی کاموں سے ہے. ایس سی پی کے کمپنیوں کے اسسٹنٹ رجسٹرار خرم شہزاد نے اپنی سٹیمپ اور دستخط کے ساتھ دسمبر4، 2018 کو جاری کردہ خط حوالہ نمبر سی ایل ڈی/سی سی ڈی/متفرق/سی اینڈ کیو/ 2016-6300 کے ذریعہ دیے گئے جواب میں کہا، “کیو آئی سی ٹی میں بھارتی شہریوں کی تقرری کے خوالہ سے ریٹرنز کو ابھی تک متعلقہ رجسٹرار کی طرف سے قبول نہیں کیا گیا ہے اور مقدمہ پہلے ہی وزارت داخلہ (ایم او آئی) کو کلیئرنس بھیج دیا گیا ہے۔ایم آئی آئی سے کلیئرنس کے بعد اس معاملے کو آگے بڑھایا جائے گا۔”
یہ حیران کن بات ہے کہ ایس ای سی پی نے نے یہ تسلیم کیا ہے کہ انھوں نے متعلقہ رجسٹرار کی جانب سے تقرریوں کے بارے میں ابھی تک ریٹرنز قبول نہیں کی ہیں اور معاملہ ایم او آئی کو کلیئرنس کے لیے بھیجا ہوا ہے تو پھر کس قانون کے تحت کیو آئی سی ٹی کو اپنے آپریشنز جاری رکھنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔ یک ریگولیٹر ہونے کی وجہ سے ایس ای سی پی اس بات کا پابند ہے کہ فوری طور پر کیو آئی سی ٹی کو ڈی-رجسٹر کرے یا تب تک اس کے آپریسنز کو روک دے جب تک ایم او آئی سے کلیئرنس یا این او سی نہیں مل جاتی۔
اس کے علاوہ اگر وزارت داخلہ کے ذریعے کلیئرنس کی منظوری سے انکار کیا جاتا ہے تو اس عرصہ کے دوران کیوآئی سی ٹی پاکستان لمیٹڈ کی وجہ سے غیر قانونی/نقصانات کی کا ازالہ ایس ای سی پی کو کرنا چاہیے۔ ملزمان بہت طاقتور اور امیر افراد ہیں اس سے ظاہر ہے کہ یہ کمپنیاں آسانی سے سرکاری افسران/حکام پر دباؤ ڈال سکتے ہیں اور انہیں خرید سکتے ہیں اور ایسی صورتحال میں چیف جسٹس آف پاکستان کے کسی اور سے کارروائی کی امید نہیں لگائی جا سکتی۔
مبینہ طور پر، QICT پاکستان لمیٹڈ کی ہولڈنگ کمپنی  کے بعض ڈائریکٹرز بھارتی ہیں جنہوں نے ماضی میں بھارتی بندرگاہوں کو سنبھالا تھا جیسا کہ رضوان سلطان علی سومر، جو کہ ہندوستانی ہے اور اب میسرز ڈی پی ورلڈ کراچی کے چیئرمین اور ڈائریکٹر ہیں وہ اے پی ایم ٹرمینلز سرمایہ کاری کے بھارت میں سربراہ رہ چکے ہیں. بھارت میں گجرات پیپاو پورٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں اور اس نے میسرز مارکس لائن انڈیا اور سری لنکا کے منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں. ڈی پی ورلڈ کراچی کے ڈائریکٹر دیوانگ منکوڈی بھی بھارتی شہری ہیں اور انہوں نے نوہواوا انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل انڈیا کے ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کیا ہے اور بھارت میں ایک لاجسٹک کمپنی میں بھی کام کر چکے ہیں. اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کا QICT پورٹ بھارتی کنٹرول کر رہے ہیں. بندرگاہیں پاکستان کے انتہائی حساس اور اسٹریٹجک اثاثے ہیں جو دشمن کے شہریوں کے ہاتھوں میں نہیں دیے جا سکتے۔ کیونکہ بھارتی،الیکٹرانک ڈیٹا اور حساس معلومات اور بندرگاہ پر نقل و حرکت اور پاکستان کی دیگر معلومات بھارت کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں.
اس کے علاوہ، پاکستان آرمی کسی بھی بھارتی جارحیت کے خلاف ملک کی علاقائی سالمیت کا دفاع کرنے کے لیے ہمیشہ تیار ہے. حال ہی میں اس نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ، دو بھارتی جاسوس ڈرونز مار گرائے تھے. ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) میجر جنرل آصف غفور کہتے ہیں کہ پاکستانی مسلح افواج کسی بھی بھارتی جارحیت کو رد کرنے کے لئے تیار ہیں. انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج، بھارت کو شکست دینے کے لئے ناقابل اعتماد صلاحیت رکھتی ہے. انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی طرف سے کسی بھی غلطی کو مناسب جواب دیا جائے گا. اس سے پہلے کئی بار پاکستان نے بھارت کی جاسوسی کوششوں کو ناکام کیا ہے، اس کے جاسوس کلبھوشن یادیو کو گرفتار لیا اور اس کے نیٹ ورک کا خاتمہ کیا ہے. اب پاک فوج کو اسٹریٹجیک QICT کے بھارتی کنٹرول سے متعلق اور ان کی دیگر جاسوسی سرگرمیوں سے متعلق آگاہ کر دیا گیا ہے. اس سلسلے میں خطوط کی کاپیاں آرمی چیف، چیف ایئر اسٹاف ، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم آئی، ڈی جی آئی ایس پی آر، ڈی جی پاکستان رینجرز سندھ، ڈی جی انٹیلیجنس پاکستان بحریہ، ڈی جی پاکستان میرٹائیم سیکورٹی ایجنسی (PMSA)، وزیر داخلہ، وزیر خارجہ، چیئرمین نیب اور ڈی جی ایف آئی اے کو بھیجے جا چکے ہیں تاکہ ہندوستانی سرگرمیوں کے خلاف بروقت کارروائی کی جا سکے.
سی آئی جی نے یووراج ناراین، دیپک پاریکھ، رابرٹ ووڈز، عبداللہ غوباش، مارک رسل، محمد سیف السویدی، نادیا عبداللہ کمالی، محمد المعلم، سہیل البانا، رضوان سومر، میتھیو لیچ، عبداللہ بن دامتان، ڈیوانگ منکوڈی، راشد عبداللہ، محمد الہاشمی، حبیب اللہ خان، نصرت خان، علی خان، جنید ضمیر، چنگیز حسن نیازی، فرحان میٹھانی، مسعود نوری، محمد المنئی، عمر ال محیری، سائرس آر خورسیگارا، شاہد اقبال، عزیر قریشی، فصیح حیدر، فراز عزيز، عبد العلیم مرزا، سعد ذوالفقار اور ڈی پی ورلڈ/ کیو آئی سی ٹی کے دوسرے عملے کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
سپریم کورٹ کو حکومتی ایجنسیوں/ سیکیورٹی اداروں جیسا کہ قومی احتساب بیورو (نیب)، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) اور دوسروں کو حکم دینا چاہیے کہ اس طرح کی غیر قانونی کارروائیوں کے خلاف ایکشن لیں اورانتہائی سنجیدگی سے بندرگاہ کے خفیہ کنٹرول معاملے پر نوٹس لیں تا کہ ملک کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچایا جا سکے۔