سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج اور کٹھ پتلی انتظامیہ کے ہاتھوں گزشتہ ایک ماہ کے دوران 21 نوجوانوں نے جام شہادت نوش کیا جب کہ 310 افراد زخمی ہوئے۔ کشمیر میڈیا سیل کے ریسرچ سیکشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق قابض بھارتی فوج نے ماہ جولائی میں بھی نہتے کشمیریوں پر ظلم و بربریت کا سلسلہ جاری رکھا۔ صرف ماہ جولائی میں بھارتی فوج کی جارحیت کے نتیجےمیں ایک خاتون اور 4 کم عمر نوجوانوں سمیت 21 افراد نے جام شہادت نوش کی۔ماہ جولائی میں نوجوانوں کی شہادت پر احتجاج کرنے والے شہریوں پر بھارتی فوج نے پیلٹ گنوں، ہوائی فائرنگ، آنسو گیس شیلنگ اور لاٹھی چارج کا بے دریغ استعمال کیا جس کی زد میں آکر 310 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں خواتین، بزرگوں اور بچوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔گزشتہ ماہ بھارتی سیکیورٹی نے ضلع شوپیاں، کلگام اور کپواڑہ میں سرچ آپریشن کے نام محاصروں اور گھر گھر تلاشی کا سلسلہ جاری رہا جس کے دوران حریت رہنماؤں سمیت 169 کشمیریوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا۔اسی ماہ کے آغاز میں دختران ملت کی چیئر پرسن آسیہ اندرابی کو دو خاتون رہنماؤں سمیت سری نگر جیل سے نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہار جیل منتقل کیا گیا اور بھارتی تفتیشی ادارے این آئی اے نے سری نگر میں آسیہ اندرابی کے گھر چھاپا مارا اور بچوں کو ہراساں کیا۔بھارتی فوج نے اپنی ظالمانہ کاروائیوں کے دوران چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا اور 46 گھروں کو مسمار کر دیا گیا۔ آزادی اظہار رائے پر قدغن لگائی گئی۔ کشمیری صحافیوں کو دھونس و دھمکی کا سامنا رہا۔