شکارپور( امیرعلی بھٹو  سے) آج کاشتکاروں نے شکارپور جیل چورنگی کے قریب زیرو پوائنٹ پر کئنال خان واھ، ھاجانہ واھ، جاڑا واھ اور دیگر کئنالوں میں کاشتکاری کے لئے پانی فراہم نہ کرنے کی وجہ سے مین روڈ پر دھرنا لگایا۔ جس کی وجہ سے بلوچستان اور پنجاب سے کراچی جانے والی ٹرانسپورٹ اور مسافروں کو دو گھنٹے تک سخت دشواری کا سامنہ کرنا پڑا ۔کاشتکاروں کے لیڈر آغا شیراز اور آغا فیض للہ نے دھرنے کے شرکاِ کو خطاب کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ چاول کی کاشتکاری کی موسم ختم ہونے والی ہے، لیکن ایس ڈی او آبپاشی عبد اللہ شیخ شاخوں میں پانی فراہم کرنے کے بدلے بھاری رشوت مانگ رہے ہیں ہم غریب کاشتکاروں کو اگر پانی فراہم نہ کیا گیا تو ھم فاقہ کشی کا شکار ہوجائیں گے۔ دوسری جانب کاشتکاروں کے دھرنے پر دو کار سوار شرپسند افراد نے فائرنگ کی جس کی وجہ سے دلبر اور قربان ھاجانو زخمی ہوگئے، شرپسند عناصر کو کاشتکاروں کے ہجوم نے پکڑ کر حد تھانہ لکھی غلام شاھ پولیس کے حوالے کیا لیکن پولیس نے حملا آور کے اوپر مقدمہ درج کرنے کے بجائے انہیں بااثر ہونے کی وجہ سے آزاد کردیا ۔دھرنے کے نمائندوں سے ایس ایس پی شکارپور جھانزیب نذیر کے نمائندے نے کاشتکاروں سے بات چیت کرنے کے بعد ڈپٹی کمشنر شکارپور سید علی رضا شاہ اور ایس ڈی او آبپاشی سے میٹنگ کروائی جس میں طئ پایا کہ شاخوں میں دو دن میں پانی فراہم کیا جائے گا ۔اس کے بعد کاشتکاروں نے دھرنا ختم کیا۔