پشاور: پاکستان میں شدت پسندی اور دہشت گردی نے جب بھی سر اٹھایا ہے، ان کا پہلا ہدف تعلیمی ادارے ہی بنے، گذشتہ روز چلاس، دیامر اور آج پشین میں ہونے والے حملے اس بات کا ثبوت ہیں۔ماضی میں بھی جب خیبرپختونخوا (کے پی) میں دہشت گردوں نے قدم جمانا شروع کیے تو انہوں نے پہلا ہدف تعلیم ہی کو بنایا، کے پی کم و بیش 7 سال تک شدت پسندی کی زد میں رہا اور اس دوران تعلیمی اداروں پر 4 بڑے حملے کیے گئے جبکہ 150 سے زائد اسکولوں کی عمارتیں تباہ کی گئیں۔یہ سلسلہ 2007 میں اس وقت شروع ہوا جب سوات میں ملا فضل اللہ کی قیادت میں طالبان شدت پسندوں نے سر اٹھانا شروع کیا جہاں خاص طور پر لڑکیوں کے اسکول زبردستی بند کرانے کا عمل شروع کر کے علاقے میں دہشت پھیلائی گئی جبکہ ایک سال بعد علاقے میں مکمل عمل داری کے بعد رات کو اسکولوں کی عمارتیں بارودی مواد سے اڑائی جانے لگیں۔محکمہ تعلیم اور پارسا (PARSA) خیبرپختونخوا کی رپورٹ کے مطابق 4 سال کے دوران صرف سوات میں 134 اسکولوں کی عمارتیں مکمل طور تباہ کی گئیں، اسی طرح مالاکنڈ، بونیر اور دیر میں بھی 30 سے زائد اسکول بموں سے اڑا دیے گئے۔رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں کے ہاتھوں 2013 تک صوبہ بھر میں 170 اسکول تباہ کیے گئے جن میں سوات، مالا کنڈ کے علاوہ پشاور،ہنگو، بنوں، لکی مروت اور دیگراضلاع میں بھی 42 اسکولوں کو نشانہ بنایا گیا۔قبائلی علاقوں میں بھی 360 سے زائد اسکول عمارتوں کو بارودی مواد سے نشانہ بنا کر نقصان پہنچایا گیا۔تعلیم دشمن دہشت گردوں نے صرف اسی پراکتفا نہیں کیا، 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پرحملہ کرکے درندگی کی انتہاٗ کر دی گئی، اس دل خراش سانحہ میں 141 افراد شہید ہوئے جن میں 132 معصوم بچے بھی شامل تھے۔اس سے قبل جنوری 2014 میں ہنگو کے علاقے میں ایک خود کش حملہ آور نے اسکول میں داخل ہونے کی کوشش کی، جہاں ایک بہادر طالب علم اعتزاز حسن نے حملہ اور کو روک کر سینکڑوں بچوں کی جان بچا لی اور خود شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔۔دوسال کے وقفے کے بعد تعلیم دشمن عناصر نے 20 جنوری 2016 میں چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی کا رخ کیا، حملے میں طلبا سمیت 22 افراد شہید ہوئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔خیبرپختونخوا میں تعلیمی ادارے پر آخری بڑا حملہ یکم دسمبر 2017 کو ہوا جب پشاور کے ایگری کلچر انسٹی ٹیوٹ میں دہشت گردوں کا گروپ داخل ہوا، حملے میں طلبا اور اسا تذہ سمیت 9 افراد نے جام شہادت نوش کیا۔تعلیم دشمن عناصر کی کارروائیاں ایک طرف لیکن حکومت نے دہشت گردوں کے حملوں میں متاثرہ اسکولوں کی بحالی پر بھی توجہ نہیں دی، ایک رپورٹ کے مطابق صوبے اورقبائلی اضلاع میں اب بھی 40 فیصد اسکول تباہ حال پڑے ہیں۔