کوالا لمپور: ملائیشیا کے سابق وزیراعظم نجیب رزاق پر سرکاری خزانے میں خرد برد کے مقدمے کے بعد اب منی لانڈرنگ کیس میں بھی فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔ملائیشیا کی مقامی عدالت نے سابق وزیراعظم نجیب رزاق پر منی لانڈرنگ کیس میں بھی فرد جرم عائد کردی ہے۔ سابق وزیراعظم نے اپنے خلاف مقدمات کو جعلی قرار دیتے ہوئے تمام الزامات کو مسترد کردیا ہے۔سابق وزیراعظم نجیب رزاق  کے خلاف منی لانڈرنگ کے تین مقدمات ہیں۔ جس میں انہیں 42 ملین ڈالر کی کرپشن کا حساب دینا ہوگا بصورت دیگر منی لانڈرنگ کے ہر مقدمے میں ملائیشیا کے سابق وزیراعظم کو 20 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔قبل ازیں سابق وزیراعظم نجیب رزاق پر دسمبر 2014 سے مارچ 2015 کے دوران اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے سرکاری فنڈ سے 10 ملین ڈالر کی رقم اپنے بینک اکاؤنٹ میں منتقلی کے جرم میں 4 جولائی 2018 کو کرپشن مقدمات میں فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔واضح رہے کہ ملائیشیا کے سابق وزیراعظم نجیب رزاق کو گزشتہ ماہ سرکاری خزانے میں خرد برد کے الزام میں اینٹی کرپشن پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ یہ گرفتاری ملائیشیا کے انتخاب میں ان کی غیرمتوقع شکست کے بعد کی گئی۔ رواں برس ہونے والے الیکشن میں مہاتیر محمد نے نجیب ہارون کو شکست دی تھی۔