کراچی: چین کے شہر شین یانگ سٹی میں کراچی اور شین یانگ کے درمیان دوستی اور تعاون کا معاہدہ کیا گیا ہے۔دوستی اور تعاون کے اس معاہدے کے تحت دونوں شہر چین اور پاکستان کے درمیان دوستی کو مزید مضبوط بنانے کیلیے بیلٹ اینڈ روڈ پروجیکٹ کے تحت باہمی تعاون میں اضافہ کریں گے اور مختلف سطح پر دوستانہ روابط بڑھائیں گے جن سے دونوں ملکوں کے عوام کو ایک دوسرے کے مزید قریب لانے اور باہمی تجارت و اقتصادی ترقی کی راہ ہموار کرنے میں مدد ملے گی۔معاہدے کی دستاویز پر میئرکراچی وسیم اختر اور شین یانگ سٹی کے میئر نے دستخط کیے ، معاہدے کے تحت کراچی اور شین یانگ سٹی کے متعلقہ محکمے اور نمائندے مشترکہ دلچسپی کے امور میں تعاون اور اشتراک عمل کے لیے مستقل بنیادوں پر رابطہ رکھیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ صنعت و تجارت، معیشت، سیاحت، زراعت، مواصلات، شہری تعمیرات، سائنس وٹیکنالوجی، کلچر، تعلیم، کھیلوں، صحت عامہ، ماحولیاتی تحفظ ، نوجوانوں کے لیے پروگرام اور دیگر شعبوں میں مختلف شکلوں میں باہمی تعاون کو وسعت دیں گے۔اس سے قبل میئر کراچی وسیم اختر نے شین یانگ سٹی کے میئر سے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا، میئر کراچی نے کراچی اور شین یانگ سٹی کے درمیان دوستی اور تعاون کے معاہدے کے حوالے سے مختلف نکات پر بھی بات چیت کی اور اس امید کا اظہار کیاکہ اس معاہدے سے دونوں شہروں کو فوائد حاصل ہوںگے اور مستقبل میں پاک چین دوستی کو مزید تقویت حاصل ہوگی۔واضح رہے کہ کراچی اور شین یانگ سٹی کے مابین مماثلت کے باعث شین یانگ سٹی اورکراچی کو دوست شہر قرار دینے کا معاہدہ کیا گیا ہے جس کے لئے میئر کراچی وسیم اختر کو چین کے دورے کی دعوت شین یانگ سٹی کی پیپلزایسوسی ایشن فار فرینڈ شپ نے دی تھی، معاہدے کی مدت3سال ہے تاہم اس میں مزید توسیع ہوسکے گی۔معاہدے کے ذریعے شین یانگ سٹی اور کراچی کے درمیان انفرااسٹرکچر، ڈیولپمنٹ، نالوں کی صفائی، فائراسٹیشن ، ٹرانسپورٹ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور دیگر منصوبوں میں تعاون کا جائزہ بھی لیا جائے گا اور پاکستان کے معاشی حب اور سب سے بڑے شہر کراچی میں سٹی پلاننگ، اسمارٹ سٹی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، پبلک مینجمنٹ، اربن ڈیولپمنٹ، ٹریفک ماس ٹرانسپورٹیشن، میونسپل سروسز، میڈیکل اینڈ ہیلتھ، فائراسٹیشنز اورپارکنگ پلازا کی تعمیر، کچرے کو بڑے پیمانے پر منتقل کرنے سمیت مختلف شعبوں میں چینی ماہرین اور کمپنیز سے تعاون حاصل کیا جائے گا تاکہ کراچی کے شہریوںکوبھی چین کے شہروںکی طرزپربہترشہری سہولتیں میسر آسکیں۔