لاہور: برصغیر میں پاپ میوزک متعارف کرانے والی نازیہ حسن كو ہم سے بچھڑے 18 برس بیت گئے لیکن وہ آج بھی اپنے مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ 3 اپریل 1965 کو کراچی میں میں پیدا ہونے والی پاپ سٹار نازیہ حسن نے اپنے فنی کیریئرکا آغاز15 برس کی عمرمیں پاکستان ٹیلی وژن سے کیا، نازیہ حسن نے کم عمری میں ہی اپنی فنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا شروع کردیا تھا تاہم انہیں عالمی سطح پراس وقت شہرت ملی جب انہوں نے بھارتی پروڈیوسر وہدایت کار فیروز خان کی فلم 147قربانی148 کا مشہور گیت 147آپ جیسا كوئی میری زندگی میں آئے148 ریکارڈ کروایا، اس گانے نے نازیہ حسن كو راتوں رات سپرسٹار بنا دیا اور اس طرح وہ پاكستان کے ساتھ بھارتی میوزک انڈسٹری کا بھی جانا پہچانا نام بن گئیں،اس گیت کیلئے انہیں فلم فیئرایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔نازیہ حسن كا پہلا البم 147ڈسكو دیوانے تھا جس نے كامیابی کےنئے ریكارڈ قائم كئے، اس البم میں ان کے بھائی زوہیب حسن نے بھی اپنی آواز كا جادو جگایا، بہن بھائی كی اس جوڑی نے بعد میں بھی كئی یادگار گیت گائے۔ 147ڈسكو دیوانے148 کے بعد اگلے 10 سالوں میں نازیہ کے 4 مزید البم 147بوم بوم148،148ینگ ترنگ148، 147ہاٹ لائن148 اور 147كیمرہ كیمرہ148 ریلیز ہوئے اور تمام البمزان كی كامیابی اورمقبولیت کے گراف میں اضافہ كرتے چلے گئے۔نازیہ حسن نے اپنے كیرئیر میں مجموعی طور پر20 سے زائد میوزک ایوارڈ حاصل كئے جن میں بالی ووڈ كا سب سے بڑا فلم فیئر ایوارڈ بھی شامل ہے۔ وہ اپنے منفرد انداز اور ہٹ گیتوں کے باعث نئے سنگرز کےلئے رول ماڈل بن چكی تھیں، كیرئیر کے عروج میں ہی نازیہ حسن كو پھیپھڑوں كا كینسر لاحق ہوگیا جس کے باعث وہ 13 اگست 2000 كو لندن کے اسپتال میں 35 برس کی عمر میں انتقال كرگئیں۔میوزک كی دنیا میں لاتعداد خدمات کے نتیجے میں حكومت پاكستان نے نازیہ حسن كو اعلیٰ ترین سول ایوارڈ 147پرائڈ آف پرفارمنس148 سے بھی نوازا –