لندن: ایک قسم کی سبزچائے، میچا گرین ٹی میں ایسے خاص اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں جو بعض اقسام کے سرطانی خلیات (سیلز) کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس ضمن میں برطانیہ کی سیلفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے کینسر کی وجہ بننے والے اسٹیم سیلز پر میچا چائے کی آزمائش کی اور اس کے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے۔ایجنگ نامی ریسرچ جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے میچا چائے کے اجزا نے بریسٹ کینسر کے خلیات کی تہوں ( اسٹیم سیل لائنز) میں جاری سرطانی عمل کو تبدیل کرکے اسے ایک ایسی سطح تک پہنچادیا کہ وہ مزید پھیلنے سے رک گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میچا چائے کے اجزا کی بہت معمولی مقدار استعمال کی گئی تھی۔ماہرین نے یہ بھی دیکھا کہ کینسر اسٹیم سیل کے فروغ میں اندرونی سگنلنگ کے پورے نظام میں میچا چائے نے ایم ٹی او آر سگنلز پر اثرانداز ہوکر 40 ایس رائبوسوم کو کمزور بنادیا تاکہ کینسر مزید نہ پھیلے۔ اس سے معلوم ہوا کہ میچا چائے کو ایک دوا ’ریپامائسن‘ کی جگہ استعمال کیا جاسکتا ہے جو عین وہی کام کرتی ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔اس پر تحقیق کرنے والے پروفیسر مائیکل لیسانٹی کہتے ہیں کہ سبز چائے کی یہ قسم بہت سے طبی فوائد رکھتی ہے۔ لیکن اس سے قبل اس کو وہ پورا نظام سمجھنا ہوگا جو چائے کو اس قابل بنارہا ہے۔ تجربہ گاہ میں برسیٹ کینسر کے خلیات دھیرے دھیرے سوکھنے لگے اور اس کے بعد ختم ہونا شروع ہوئے جو ایک انقلابی عمل ہے۔واضح رہے کہ سبز چائے کی بہت سی اقسام ہیں اور میچا گرین ٹی پاکستان ک بڑے اسٹوروں میں مل سکتی ہے۔