اسلام آباد: پچھلے 33 سالوں کے دوران مملکت خداداد پاکستان کے 8 صدور (پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس) مجلس شوریٰ سے آئینی تقاضا پورا کرتے ہوئے 27 مرتبہ خطاب کر چکے ہیں جبکہ 13 ستمبر 2018 کو موجود صدر ڈاکٹر عارف علوی مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنیوالے 9 ویں صدر ہونگے۔ ضیاء الحق نے پہلی بار پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا پھر 30 دسمبر 1985 کو دوسری بار ،8 جولائی 1986 کو تیسری مرتبہ، 19 اپریل 1987 کو چوتھی اور 7 اپریل 1988 کو پانچویں مرتبہ خطاب کیا، ضیاء الحق کی وفات کے بعد 14 دسمبر 1988ء کو صدر غلام اسحاق خان نے پہلی بار، 2 دسمبر 1989 کو دوسری مرتبہ، 8 نومبر 1990 کو تیسری بار، 19 دسمبر 1991 کو چوتھی مرتبہ اور 22 دسمبر 1992ء کو پانچویں مرتبہ مجلس شوریٰ سے خطاب کیا ۔اس کے بعد 27 اکتوبر 1993ء کو وسیم سجاد نے بطورصدر خطاب کیا۔ 14 نومبر 1994ء کو فاروق احمد خان لغاری نے پہلی بار اور 29 اکتوبر 1995ء کو تیسری بار خطاب کیا۔ 1996ء میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا ہی نہیں گیا اور 26 مارچ 1997ء کو فاروق لغاری نے تیسری بار پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا، 23 فروری 1998ء کو رفیق احمد تارڑ نے بطور صدر مملکت پہلی مرتبہ، 11 مارچ 1999ء کو دوسری مرتبہ مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا، مارچ 1999ء سے جنوری 2004ء تک پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا ہی نہیں گیا۔ 17 جنوری 2004ء کو پرویز مشرف نے بطور صدر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تھا جس میں ان کے   مکا   دکھانے کو ہدف تنقید بھی بنایا گیا تھا۔ 20 ستمبر 2008 کو بطور صدر آصف علی زرداری نے پہلی مرتبہ، 28 مارچ 2009ء کو دوسری مرتبہ، 5 اپریل 2010 کو تیسری مرتبہ، 22 مارچ 2011ء کو چوتھی مرتبہ، 17 مارچ 2012ء کو پانچویں مرتبہ اور 10 جون 2013ء کو چھٹی مرتبہ مجلس شوریٰ سے خطاب کیا، 2 جون 2014ء کو صدر ممنون حسین نے پہلی مرتبہ، 4 جون 2015ء کو دوسری مرتبہ، یکم جون 2016 کو تیسری مرتبہ اور 2017 میں چوتھی مرتبہ خطاب کیا۔ اس طرح 1985ء سے 1988ء تک ضیاء الحق نے 5 مرتبہ، غلام اسحا ق خان نے 5 مرتبہ، وسیم سجاد نے 1 مرتبہ، فاروق لغاری نے 3 مرتبہ، رفیق تارڑ نے 2 مرتبہ، آصف علی زرداری نے 6 مرتبہ اور ممنون حسین نے 3 مرتبہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ آصف زرداری اب تک واحد صدر ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ 6 مرتبہ مشترکہ اجلاس سے خطاب کر کے آئینی تقاضا پورے کرنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔