اسلام آباد:  محرم الحرام کے دوران امن وامان برقرار رکھنے کے لئے حکومت نے درجن بھر شعلہ بیان علماءکی تقریروں پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ درجن سے زائد ایسے ہیں جنہیں دو ماہ تک وفاقی دارالحکومت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ پابندی کا نشانہ بننے والوں میں شعلہ بیانی کی نئی صنف متعارف کروانے والے تحریک لبیک کے سربراہ خادم رضوی بھی شامل ہیں۔  یہ احکامات اسلام آباد کیپیٹل ٹیرٹری ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی جانب سے جاری کئے گئے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ 26 علماءپر فرقہ وارانہ سرگرمیوں اور تقاریر کے حوالے سے پابندی عائد کی گئی ہے۔ وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے یہ پابندی ان علماءکے ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے عائد کی ہے۔ تحریک لبیک کے سربراہ خادم رضوی کے علاوہ لال مسجد کے عبدالعزیز، مسجد وحدت المسلمین کے امین شہیدی اور ناصر عباس جعفری ،اور اہل سنت والجماعت کے متعدد علماءپر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اہل سنت والجماعت کے عبدالرحمان معاویہ، قاری احسان اللہ، عبدالرزاق حیدری پر بھی پابندی ہوگی۔ مجلس وحدت مسلمین کے جنرل سیکرٹری ناصر جعفری اور امین شہیدی پر پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ آغا شفاءنجفی اور شیخ محسن النجفی پر بھی پابندی ہوگی۔ بریلوی مکتبہ فکر کے ظفر اقبال جلالی، امتیاز حسین کاظمی اور لیاقت رضوی پر پابندی عائد کی گئی ہے اور اہل حدیث کے علامہ محمد یونس قریشی بھی پابندی کی زد میں آئے ہیں۔ جن علماءپر وفاقی دارالحکومت میں داخل ہونے پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں اہل سنت والجماعت کے اورنگزیب الفاروقی، طاہر اشرف، سرگودھا سے تعلق رکھنے والے الیاس گھمن، واہ کینٹ کے حافظ محمد صدیق اور کبیر والا کے عبدالخالق رحمانی شامل ہیں۔ بریلوی مکتبہ فکر کے خادم حسین رضوی، محمد یوسف رضوی المعروف ٹوکہ، پیر عرفان المشہدی، ڈاکٹر اشرف جلالی شامل ہیں۔ شیعہ مکتبہ فکر کے سید ذاکر مقبول حسن، حافظ تصدق حسین، علامہ محمد اقبال، علامہ غضنفر تونسوی اور علامہ جعفر جتوئی پر بھی وفاقی دارالحکومت میں داخل ہونے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ یہ پابندی دو ماہ پر محیط ہوگی۔