ترامیماتی بجٹ
تحریر : رانا محمد طفیل
پی ۔ٹی۔ آئی کو پچھلی حکومت کا پاس کردہ بجٹ پسند نہیں آیا بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ ایک آنکھ نہیں بھایا۔ دوسری آنکھ کھولنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔پچھلے بجٹ میں جو سب سے زیادہ خرابی نظر آئی وہ تنخواہ دار طبقہ کی انکم ٹیکس چھوٹ تھی۔ دوسری تر جیح یہ تھی کہ جن اشیاء پر ٹیکس ڈیوٹی کی چھوٹ عام آدمی کیلئے دی گئی تھی وہ بھی بند کر دی بلکہ بڑھا دی ۔ بجلی اور گیس کو بھی نہیں بخش رہے۔ غریبوں اور پسے ہوئے لوگو ں کی 22سال نوحہ زنی کرنے والی پارٹی جب اقتدار میں آئی تو عام آدمی کیلئے زمین تنگ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ شایدغریب کو مار کر غربت مٹانے کا فارمولا ذہن میں ہو ۔یہ بھی عین ممکن ہے کہ یہ سب کچھ آئی ۔ایم ۔ایف کو بطور بیٹ (Bate)پیش کر کے اُس کو پھنسایا جارہا ہو ۔ بیٹ وہ ’’گنڈویا‘‘ ہو تا ہے جو مچھلی پکڑنے کیلئے تیز کنڈی پر چڑھا یا جاتاہے پھر اُسے نہر یا دریا میں پھینک کر کنارے پر بیٹھ کر مچھلی کُنڈی میں پھنسنے کا انتظار کیا جاتا ہے ۔
مگر حیرت یہ ہے کہ اسکے ساتھ ساتھ آی ۔ایم ۔ایف کا یہ حکم بھی مان لیا گیا کہ سرکاری قومی بڑی بڑی رہائش گاہیں یعنی وزیر اعظم ہاؤس ،گورنر ہاؤسسز ،ریسٹ ہاؤسسز وغیرہ کو کمرشک کیاجائے ۔ مال مفت دلِ بے رحم والی بات سچ ثابت نہ ہو جائے۔ وزیر اعظم اور گورنرز یا دیگر عمارت پاکستان کی پہچان اور اثاثہ ہیں۔ملک میں قائد اعظم کی رہائش گاہیں ہیں۔ بڑے بڑے قلعے ہیں۔خوبصورت پہاڑ ہیں ۔بے مثال کانیں ہیں۔سیر گاہیں ہیں۔ریل گاڑیاں ہیں۔خوبصورت بے شمار اسٹیشن ہیں۔ کیا گِنواؤں ۔کیا ان سب پر ہاتھ صاف کیا جائے گا۔ صرف اس لئے کہ خزانہ خالی ہے ۔ایسا کرنے سے خزانہ تو بھر جائے گا مگر ملک خالی ہوجائے گا۔ اُسکی خوبصورتی اُسکی جھیلیں ۔اُسکے دریا اور خوبصورت ترین سمندر کہاں ملیں گے۔ نج کاری اچھا عمل ہے مگر سارے گھر کی چیزیں بیچ دینا عقل مندی نہیں یہ ساری چیزیں قائداعظم نے ہمیں دی ہیں آپ کا ان پر کو ئی حق نہیں ۔غریب آدمی کو جب علاج کیلئے پیسوں کی ضرورت ہو تی ہے تو وہ سب سے پہلے وہ پرات بیچتاہے جسکے بغیر گزارہ ہو سکے۔
پی ۔ٹی ۔آئی کی حکومت نے جس تنخواہ دار طبقے پر ہاتھ ڈالا ہے وہ کروڑوں میں ہیں۔ قلم چھوڑ دیا تو کاروبارِ سلطنت ٹھپ ہو نے کا اندیشہ ہو گا۔ شنید ہے اس کے بعد اگلا آسان شکار پنشن لینے والے بابے ہیں۔اُن کی تعد بھی لاکھوں میں ہے۔ تنخواہ دار کے ساتھ تو ایک فیملی ہوتی ہے مگر پنشن والے بابوں کے ساتھ کئی خاندان جڑے ہو تے ہیں۔پنشن والا طبقہ اگر قلم چھوڑبھی دے تو حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔مگر یقین کر لیں کہ بوڑھے بابوں کے اور ان سے منسلک خاندانوں کے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھ گئے تو کیا ہو گا ۔
ہم سمجھتے ہیں تھے کہ مسلم لیگ (ن) صرف اور صرف تاجروں کی پارٹی ہے۔ مگر اُن کے دورمیں تنخواہ اور پنشن بڑھائی جاتی رہی ۔ عوام سمجھ رہی تھی عمران خان صاحب حکومت میں آتے ہی جنرل سیل ٹیکس میں خاصی کمی کرے گی تاکہ اشیاء سستی ملیں مگر یہ تو یو ں ہو ا کہ ایک بد بخت مردوں کے کفن اتار کر بیچتا تھا ۔اس کی موت پر لوگ خوش ہوئے مگر چند یوم بعد اسے اچھا کہنے لگے کیونکہ اس کا بیٹا جب گورکن بنا تو وہ کفن اتار کر ہپ میں کِلہ بھی ٹھوکتا تھا ۔ ہم سب اس پیارے ملک کے بھانڈے (برتن) ہیں۔ ہمیں بیچ دیا تو گھر کھنڈر ہو جائیگا۔ آپ لو گ تو ہم عوام کو اوپر اٹھانے کیلئے آئے ہیں ۔ کہیں اوپر ہی نہ چلے جائیں۔