’’الوداع‘الوداع‘کلثوم نواز‘الوداع‘ ‘
تحریر ۔۔۔ باؤ اصغر علی
ہر ذی روح اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا جو عرش بریں کے خالق نے اپنی مقدس کتاب قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد مبارک فرمایا ’’کْلّْ نَفسٍ ذَائقۃ المَوتِ ‘‘ ہرنفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے‘خالق کائنات اللہ رب العزت نے ہر جاندار کے لئے موت کا وقت اور جگہ متعین کردی ہے اور موت ایک ایسی شے ہے کہ دنیا کا کوئی بھی شخص خواہ وہ کافر یا فاجر حتی کہ دہریہ ہی کیوں نہ ہو، موت کو یقینی مانتا ہے۔ اور اگر کوئی موت پر شک وشبہ بھی کرے تو اسے بے وقوفوں کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ بڑی بڑی مادی طاقتیں اور مشرق سے مغرب تک قائم ساری حکومتیں موت کے سامنے عاجز وبے بس ہوجاتی ہیں،موت بندوں کو ہلاک کرنے والی، بچوں کو یتیم کرنے والی، عورتوں کو بیوہ بنانے والی، دنیاوی ظاہری سہاروں کو ختم کرنے والی، دلوں کو تھرانے والی، آنکھوں کو رلانے والی،بستیوں کو اجاڑنے والی، جماعتوں کو منتشر کرنے والی، لذتوں کو ختم کرنے والی، امیدوں پر پانی پھیرنے والی، ظالموں کو جہنم کی وادیوں میں جھلسانے والی اور متقیوں کو جنت کے بالاخانوں تک پہنچانے والی شے ہے،موت نہ چھوٹوں پر شفقت کرتی ہے، نہ بڑوں کی تعظیم کرتی ہے، نہ دنیاوی چودھریوں سے ڈرتی ہے، نہ بادشاہوں سے ان کے دربار میں حاضری کی اجازت لیتی ہے۔ جب بھی حکم خداوندی ہوتا ہے تو تمام دنیاوی رکاوٹوں کو چیرتی اورپھاڑتی ہوئی مطلوب کو حاصل کرلیتی ہے، 11دسمبر 2018کی صبح جب میں نے نیٹ آن کیا تو سوشل میڈیا پرایک ویڈیو دیکھی جس میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف اپنی اہلیہ کو کہہ رہیں تھے’’ آنکھیں کھولو کلثوم باؤ جی آنکھیں کھولو ،کلثوم باؤ جی آنکھیں کھولو‘‘ان کی آواز میں درد‘غم‘سوگ محسوس کیا جا سکتا تھا یہ سب دیکھ کر میری کیفیت عجیب سی ہوئی میں نے فوری ٹی وی آن کیا تو وہی ہوا جو ڈر تھا سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی موت کی خبرآگئی وہ اس دنیا میں نہیں تھی اس لئے اس کی آنکھیں بند ہو گئی تھیں ‘سابق خاتون اول اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز لندن کے ہسپتال میں طویل اور شدیدعلالت کے بعد خالق حقیقی سے جا ملی تھی ‘ بالا آخر کلثوم نواز کی نماز جنازہ شریف میڈیکل سٹی گراؤنڈ میں ادا کی گئی ان کی نماز جنازہ معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے پڑھائی ‘لاکھوں لوگوں کے ہجوم میں ہر آنکھ اشکبار تھی بالا آخر آنکھوں میں آنسوں لیے’’الوداع‘الوداع‘کلثوم نواز‘الوداع‘ ‘کہنا پڑا ۔ اس سے قبلسابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز کی نماز جنازہ اسلام سینٹر ریجنٹ پارک پلازہ لندن میں بھی ادا کی گئی تھی ، نماز جنازہ امام خلیفہ عزت نے پڑھائی جس میں شہبازشریف ، چوہدری نثار ، حسن، حسین ، اسحاق ڈار لیگی کارکنان اور برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اس موقع پہ لیگی رہنماء اور کارکنان اشکبار ہو گئے اور نعرے بازی کرتے رہے۔ واضح رہے کہ سابق خاتون اول کی آخری رسومات سے قبل مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے شریف میڈیکل سٹی میں اپنی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی نماز جنازہ کے انتظامات کا جائزہ لیا ،انہوں نے اپنے والد محمد شریف اور بھائی عباس شریف کی قبر پر حاضری دیکر فاتحہ خوانی بھی کی۔لیگی کارکنان نے بیگم کلثوم نواز کی جمہوریت کیلئے خدمات اور مارشل لاء کے دور میں انتہائی بہادرانہ انداز میں پارٹی کو یکجا کرنے پر انہیں خراج حسین پیش کرتے ہوئے ’’الوداع، الوداع۔۔۔مادر جمہوریت۔۔۔ الوداع‘‘ کے نعرے لگائے۔بیگم کلثوم نواز 3 بار خاتون اول کے عہدے پر فائز رہیں اور 2 سال مسلم لیگ (ن) کی صدر بھی رہیں بیگم کلثوم نواز نے خاوند کی قید کے دوران جمہوریت کیلئے تاریخ ساز کردار ادا کیا۔ہم محترمہ کلثوم نواز کی پاکستان،جمہوریت اور عوام کے لیے خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں سابق خاتون اول ایک نڈر،بہادر اور جری خاتون تھیں جنہوں نے ہر طرح کی مشکلات کا مقابلہ خندہ پیشانی سے کیا، قوم ملک کیلئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھے گی ‘ بیگم کلثوم نواز ایک بہادر خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ ایک گھریلو خاتون تھیں لیکن جمہوریت پر برا وقت آنے پرانہو ں نے سیاسی میدان میں آکرآمریت کا بہادری سے مقابلہ کیا اور جمہوریت کی بحالی کے لئے تاریخی اور اہم کردار ادا کیا انکی جمہوریت کے لئے دی گئی قربانیوں اورخدمات کو عوام مدتوں یاد رکھے گی،بیگم کلثو نواز اجیسی خواتین کم ہی پیدا ہوتی ہیں جو تاریخ میں اپنے آپ کو امر کر جاتی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ پاک مرحومہ کے درجات سربلند فرمائے شریف خاندان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے،آمین،۔