اسلام آباد : توہین رسالت کیس میں سزایافتہ آسیہ بی بی کی سزائے موت کےخلاف اپیل پر سماعت آج ہوگی،چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ اپیل کی سماعت کرے گا۔ تفصیلات کے مطابق عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سمیت فریقین کو نوٹسز جاری کر رکھے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے آسیہ بی بی کی سنائی گئی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا۔ واضح رہے کہ 22 جولائی دو ہزار پندرہ کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے توہین رسالت کیس کی مجرم آسیہ بی بی کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا تھا۔ آسیہ بی بی کے خلاف دو ہزار نو میں توہین رسالت کے جرم میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس اعجاز احمد چوہدری اور جسٹس عمر عطا بندیال پر مشتمل تین رکنی بنچ نے آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت کی تھی۔ عدالت کے روبرو آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک نے موقف اختیار کیا تھا کہ ننکانہ صاحب کی سیشن عدالت نے دو ہزار نو میں توہین رسالت کے الزام میں آسیہ بی بی کو موت کی سزا سنائی۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ آسیہ بی بی کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔ واقع سے آسیہ بی بی کا کوئی تعلق نہیں۔ آسیہ بی بی کے وکیل نے عدالت عظمیٰ سے آسیہ بی بی کی سزا کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔ عدالت نے سزا کے خلاف آسیہ بی بی کی اپیل منظور کرتے ہوئے تا حکم ثانی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا اور آئندہ سماعت میں پولیس سے مقدمہ کا ریکارڈ طلب کرلیا۔ عدالت نے آسیہ بی بی کیس سے متعلق شہادتیں بھی ریکارڈ پر لانے کا حکم دیا۔ آسیہ بی بی کے خلاف ننکانہ صاحب میں دو ہزار نو میں توہین رسالت کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ سے آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل دو ہزار چودہ میں خارج ہوئی تھی جس کے بعد مجرم آسیہ کے وکیل نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔