عارف والا: تھانہ سٹی عارف والا۔ ایس ایچ او سٹی نے۔شریف شہری کو ایک ہفتہ سے اغوا کرکے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا ہوا ہے۔ آٹھ دن سے کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔حوالات میں غیر قانونی بند ملزم کی ویڈیو بھی منظر عام پر آچکی ہے۔غلام مصطفی نامی ہیڈ کانسٹیبل تھانہ صدر عارفوالا نےشفیق نامی پولیس اہلکار کے ساتھ ملی بھگت کرکے اور اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ایک ہفتہ قبل رشوت کے زور پر محمد اسلام کو بغیر اندراج ایف آئی آر غیر قانونی طور پر خود سرکاری گاڑی پر نامعلوم پولیس اہلکاروں کے ہمراہ تھانہ احمد یار کی حدود میں داخل ہوکر متعلقہ تھانہ کے روزنامچہ میں آمد روانگی کی رپٹ لکھے بغیر ملزم محمد اسلام کو اغوا کر کے لے گیا اور چند دن تھانہ صدر میں غیر قانونی طور پر بند رکھا۔اور رہائی کے بدلے رشوت کا مطالبہ کرتا رہا۔اس کے بعد ملزم کو تھانہ سٹی منتقل کر دیا گیا۔تھانہ سٹی میں محمد حسنین ٹرینی سب انسپکٹر تھانہ سٹی عارفوالا نے ایس ایچ او کی ہدایت پر 7 روز سے حراست میں لئے گئے ملزم ۔محمد اسلام ولد محمد صدیق قوم آرائیں ۔ماجد حسین ولد محمد حسین قوم مے سکنہ 237 ای۔بی تھانہ گگو تحصیل بوریوالا ضلع وہاڑی کے علاوہ 4 کس نامعلوم افراد کے خلاف رضوان رشید کی تحریری درخواست پر وقوعہ کے9 دن بعد مقدمہ نمبر 670/18 بجرم 380 ت پ مورخہ 5 اکتوبر 2018۔ تھانہ سٹی عارفوالا میں درج کر لیا ۔ایک ملزم ماجد حسین کو رشوت لیکر ایس ایچ او نے رہا کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ملزم محمد اسلام کے گاوں کے لوگوں نے عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو آن لائن نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم محمد اسلام بے گناہ ہے۔اس کے چچا محمد رفیق کے زیر استعمال موبائل میں سم محمد اسلام کی استعمال ہو رہی تھی۔ محمد رفیق آرائیں سکنہ 237 ای۔بی نے موبائل اپنے داماد محمد عباس سکنہ عارف والا سے حاصل کیا تھا۔پولیس نے مدعی کے ساتھ ملی بھگت کرکے خلاف حالات و واقعات غلط حقائق پر بد نیتی کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا ہے۔اور ایس ایچ او کو اصل کہانی کا علم ہونے کے باوجود محمد اسلام کو 8 دن سے غیر قانونی طور پر گرفتار کرکے رکھا ہوا ہے۔ اس کہانی کے پس پردہ ایک پولیس اہلکار محمد شفیق نے اپنے اثرو رسوخ سے ملزم اسلام کو تھانہ صدر عارفوالا پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل غلام مصطفی ذریعے اغوا کروا کر تھانہ صدر عارف والا میں رکھا پھر چند دن بعد ملزم کو ایس ایچ او سٹی کے حوالہ کر دیا گیا۔جب ایس ایچ او سٹی سے ملزم کی آٹھ دن سے غیر قانونی گرفتاری کے حوالہ سے بات کی گئی تو ایس ایچ او نے ملزم کو مزید مقدمات میں ملوث کرنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں کہ اس ایشو پر معاملہ کو ہائی لائیٹ کرنے کی کوشش کی گئی تو مزید جھوٹے مقدمات میں بھی ملوث کر دونگا۔ملزم کے عزیز و اقارب اور اہل دیہہ نے اس ظلم و زیادتی۔ پر ریجنل پولیس آفیسر ساہیوال اور پریس کلب ساہیوال کے سامنے غلام مصطفی ہیڈ کانسٹیبل۔ محمد شفیق پولیس اہکار۔محمد حسنین سب انسپکٹر اور ایس ایچ او کی غیر قانونی حراست اور مقدمہ میں غلط طور پر ملوث کرنے پر احتجاج ریکارڈ کروانے کا اعلان کیا ہے۔اور آئی پولیس پنجاب اور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستتان سے واقعہ کا از خود نوٹس لیکر ایس ایچ او، تفتیشی آفیسر محمد حسنین۔غلام مصطفی۔ایچ سی۔اور محمد شفیق کے خلاف اختیارات کے غلط اور ناجائز استعمال پر ان کے خلاف پولیس آرڈر 2002 ترمیم شدہ 2017 کے آرٹیکل 155-سی کے تحت مقدمہ درج کرکے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔کوئی شخص یا ادارہ قانون سے بالا تر نہیں ہے۔آئی جی پولیس پنجاب لاہور سے مقدمہ کی میرٹ پر تفتیش کروانے کی اپیل کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔البتہ رانا اکمل ڈی ایس پی عارفوالا نے واقعہ کا فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے ملزم کے ورثاء کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وقوعہ میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کاروائی کرنے کے لیے رپورٹ مجاز اتھارٹی کو بجھوائی جائے گی۔اور ملزم محمد اسلام کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں کی جائے گی۔رانا اکمل نے ملزم کے ورثاء کو آج تحریری درخواست لیکر دفتر ڈی ایس پی عارفوالا پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔