اسلام آباد: سپریم کورٹ میں طلال چوہدری کی سزا کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا اٹارنی جنرل آفس نے سزا توسیع کی درخواست کیوں نہیں دی؟جس پر وکیل طلال چوہدری نے کہا عدالت سے معافی چاہتا ہوں، درگزر کا مظاہرہ کیا جائے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا طلال چوہدری نے آج تک معافی نہیں مانگی۔چیف جسٹس نے کہا بلائیں میاں صاحب کو، آکر نکالیں پی سی او ججز کو۔عدالت نے طلال چوہدری کا معافی نامہ مسترد کردیا، چیف جسٹس نے کہا ہم ان کی معافی قبول نہیں کررہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئے یہ کسی کی ذات کی نہیں بلکہ ادارے کی بات ہے۔ پانچ سال کی سزا مناسب ہے۔چیف جسٹس نے کہا آپ دلائل دیں میرٹ پرکیس کوسنیں گے، ہم ان کی معافی قبول نہیں کررہے۔عدالت نےطلال چوہدری کی معافی کی استدعا قبول کرنے سے انکار کردیا۔