بہاولپور:  اب وزیراعظم عمران خان کرپشن پرقابو پالے گا اس توقع کااظہار اینٹی کرپشن ایکٹویسٹ اورچیئرمین پیپلزاکیڈمی پاکستان موسیٰ سعید نے میڈیاسے کیاوہ وزیراعظم عمران خان کی لاہور میں کی گئی پریس کانفرنس پراظہارخیال کررہے تھے انہوں نے کہاکہ سرمایہ داری نظام میں کرپشن کوکنٹرول کرنے کیلئے واحد طریقہ کارمیں یہ شامل ہے کہ کرپشن کی نشاندہی کرنیوالے شہری کوثابت شدہ کرپشن کاخاطرخواہ معاوضہ دیئے جانے کانظام بنایاجائے اورنشاندہی کرنیوالوں کوتحفظ فراہم کیاجائے تاہم انہوں نے زوردے کرکہاکہ اس کیلئے سرکاری معلومات اورریکارڈ تک عوام کی رسائی کے بنیادی آئینی حق پرعمل درآمد کیلئے بنائے گئے لولے لنگڑے قانون کومضبوط بناناہوگا جس میں معلومات اورریکارڈ تک رسائی میں رکاوٹ کوسنگین جرم قراردیاجائے ۔انہوں نے پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈرائٹ ٹوانفارمیشن ایکٹ2013 پرعمل درآمد کیلئے پنجاب انفارمیشن کمیشن کوبے کارسفیدہاتھی قراردیتے ہوئے متبادل کے طورپر سیشن کورٹ کوکاروائی اورسزا دینے کااختیار دیئے جانے کامطالبہ کیا انہوں نے کہاکہ انفارمیشن پاکستان گیرمسئلہ ہے اس کیلئے تعزیرات پاکستان اوردیگروفاقی قوانین کی طرح پہلے سے موجود فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کوصوبوں پربھی نافذکردیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ سابق حکمرانوں نے بدنیتی سے پنجاب ٹرانسپیرنسی ایکٹ اور اس پرعمل درآمد کیلئے پنجاب انفارمیشن کمیشن کا ادارہ بنایا جس کامقصد عوام کو مشکل میں ڈال کر معلومات اورریکارڈکی دستیابی سے دوررکھناہے اس قانون میں معلومات اورریکارڈ فراہم نہ کرنے کے مرتکب اہلکارکیخلاف معمولی جرمانے کی سزادینے کااختیار پیچیدگیوں کیساتھ پنجاب انفارمیشن کمشنر کودیاگیاہے انہوں نے کہاکہ کرپشن کے خوفناک واقعات سامنے آنے سے اس کی سنگینی کابخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ ملک میں کرپشن مضبوط اداراتی صورت میں موجود ہے۔کرپٹ مافیا کے پاس کاروائی کرنیوالوں کوخریدنے کی طاقت حاصل ہے اورپریس سمیت خود حکمران پی ٹی آئی میں مضبوط ترین لابیاں موجود ہیں جس کے مقابلے کیلئے عوام میں مضبوط قوت مزاحمت پیداکرنے کیلئے جدوجہد کرنیوالے سوشل اورکمرشل پرائیویٹ نشاندہی کرنیوالے اداروں کوفروغ دیناہوگا موسیٰ سعیدنے وزیراعظم کی ڈائریکشن اورجرات کو درست قراردیدیا۔