ملتان(صفدرعلی بخاری سے ) پی ٹی آئی حکومت میں امریکی ڈالر کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جس کے بعد اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 136 روپے سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ عمران خان کی تبدیلی پر مشتمل تقریروں اور عملی کام میں بہت فرق ہے۔ ان خیالات کا اظہار سینئر نائب صدر جنوبی پنجاب پاکستان پیپلز پارٹی شعبہ خواتین راضیہ رفیق نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ عمران خان نے کہا تھا کہ ہم آئی ایم ایف اور عالمی اداروں سے قرض بالکل بھی نہیں لیں گے مگر اب وہ قرض لے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت نے غریب اور متوسط طبقے پر سب سے پہلے مہنگائی کا بم گرایا، گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کیا، بجلی اور پھر تیل کی قیمتیں بڑھا دیں۔ تحریک انصاف اپوزیشن میں بیٹھ کر ملک میں دودھ کی نہریں بہا دینے کی باتیں کرتے تھے آج برسراقتدار آئے تو ان کے عمل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ امریکی ڈالر کی بڑھتی قیمتوں کو لگام ڈالنے میں حکومت بے بس ہو چکی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی ڈالر کی قیمتوں میں اتنا ضافہ نہیں ہوا جتنا پی ٹی آئی حکومت میں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب اور معصوم عوام کے سامنے پی ٹی آئی کا اصل چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی عوامی پارٹی ہے جس نے دور اقتدار میں ہمیشہ عوامی و ملکی مفاد پر مشتمل پالیسیوں پر عمل کیا۔ تبدیلی کا نعرہ لگانے والے ملک میں مثبت نہیں بلکہ منفی تبدیلی لا رہے ہیں اس طرح کرنے سے متوسط طبقے کا جینا دو بھر ہو جائے گا۔ پی ٹی آئی نے ساٹھ دنوں میں عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں ابھی اگلے چالیس دنوں میں نہ جانے یہ کیسی کیسی تبدیلیاں لائیں گے۔ راضیہ رفیق نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت غریب کش پالیسیاں بنانے میں مصروف ہیں ایسا کرنے سے ملک میں خانہ جنگی کے حالات قائم ہو جائیں گے اور مہنگائی بڑھانے سے ملک میں جرائم جنم لیتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور اپوزیشن میں بیٹھ کر غریب عوام کا دفاع کرتی رہے گی۔ بلاول بھٹو زرداری وزیر اعظم بن کر ملک کو استحصالی کے گڑھے سے نکالیں گے۔