بھاگ شہباز بھاگ
تحریر:رانا محمد طفیل
محاوروں کے استعمال سے تحریر میں جان پڑ جاتی ہے۔ اسی تاثر کے تحت ہم بھی اپنی تحریر کو محاوروں کی مدد سے شروع کریں گے اور اسکی آخِر بھی کریں گے۔تمہید یہ ہے کہ شہباز شریف صاحب گرفتار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کیا جرم کیا ہے یہ تو جٹ جانے یا بِجوّ۔گرفتاری پر پارٹی رہنما اور کارکن کا کیا رویہ ہے وہ اصل محاوروں کی نظر کچھ یوں ہے۔ بعد از مرگ واویلا۔ بعداز قربانی لیلا۔بعد از ترکیب پانی کا ریلا۔بعد ازآگ گندم کا تھیلا۔ بعد از پختم وُغِ پتیلا۔ بعد از بچاؤ سانپ زہریلا ۔ بعد از بربادی قبیلہ۔ پَلے نئیں دھیلا تے کردی میلہ میلہ۔اب کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت ۔پانی ختم باقی بچی ریت ۔قافیے سے آزاد کچھ کہاوتیںیا محاورے بمطابق درپیش مصائب شہباز شریف اینڈ کمپنی ملاحظہ کریں۔سانپ گزر گیا اس کی لکیر پیٹنا ۔جنگ کے بعد یا د آنے والا مُکا اپنے منہ پر مارنا۔اب حکمرانوں کی کچھ یو محاوری یا حقائتی سٹینڈ۔جیسی کرنی ویسی بھرنی ۔جیسے سالا ویسی بہن۔جس کی لاٹھی اسکی بھینس۔زور اورکا سَتیّ بیاں سُو۔توچل میں آیا ۔ کیا کھویا کیا پایا ۔ فضول کاوش اور دھرنا ۔آنکھوں کا پانی مرگیا ہے۔
اوپری محاوروں پر محیط تحریر سے ظاہر ہو گیا ہے کہ موجودہ حکمرانوں اور شہبازی اپوزیشن کی کیا پوزیشن ہے۔ شہباز شریفی گورنمنٹ پنجاب میں دس سال اور نوازشریفی حکومت وفاق میں پانچ سال رہی۔ اگر وہ اتنے وسیع دورانیئے کی حکومت میں ایک نئے چھوکرے کا بندوبست نہیں کر سکی تو اس میں کسی کاکیا قصور ہے۔ قانون تب بھی موجود تھا اور اب بھی ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ اُس وقت کے حکمرانوں نے بزدلی دکھائی جبکہ موجودہ حکمرانوں نے دلیری۔ عمران خان صاحب نے بزدلی کے مقابلے میں پنجاب میں بُزدار کو وزیراعلیٰ لگا دیا اور خود وفاق میں براجمان ہو کر کمان سنبھال لی۔اب اگر غور کریں تو موجودہ پوزیشن اوپر دی گئی محاوراتی تحریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپنے دورِ حکومت میں گورنمنٹ کی رٹ قائم نہیں ہو ئی ۔ایک انجانے خوف نے شیر کو بکری بنائے رکھا ۔ نتیجہ یہ ہو ا کے ایک نو آمدہ شخص نے مید ان مار لیا اور آتے ہی سب سے پہلے حکومتی رِٹ بحال کی ۔ آپ کے دو ،آڑھائی سو کارکن اسمبلی احتجاج کرتے ہیں جبکہ حکومتی رِٹ کیلئے ان کارکنوں کیلئے انٹی واولینس پولیس کمانڈوز علاوہ عام پولیس کے دستے بھی موجود ہوتے ہیں۔ ضرورت پڑے تو رینجرز کو بھی بلا لیا جاتا ہے۔موجودہ حکومت کے دورمیں ملزم عدالت جاتا ہے جبکہ آپ کے زمانے میں ملزم عدالت کی بجائے ہسپتال چلا جاتا تھا ۔اب سمجھ آئی حکمرانی کیا ہوتی ہے۔حکومتی رِٹ کو کیسے بحال رکھا جاتا ہے۔ آپ کے دور ہی کی عوام ہے۔وہی کارکن ہیں مگر گدھ کی پرواز اور شاہین کی اُڑان اور۔ اُس وقت عمران خان احتجاج کا سِمبل تھے۔ اس وقت آپ سراپا احتجاج ہیں مگر نتیجہ صفرہے۔ شکایت کرتے تھے کہ ادارے ہمارے ساتھ نہیں ہیں ۔اب ادارے بھی وہی ہیں مگر عمران خان کہتا ہے کہ وہ اسکی پُشت پر کھڑے ہیں خصوصاً فوج اور عدلیہ کا نام لیا گیا ۔اچھی بات ہے۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اداروں کو پیچھے کی بجائے آگے کھڑا ہو نا چاہئے تاکہ عوام کے خلاف سازشوں کا مقابلہ کیا جا سکے ۔ایک حکومت آتی ہے تو ایک خاص عوام کو نوازتی ہے۔دوسری آتی ہے تو اپنے لوگوں کو نوازدیتی ہے۔ عوام بچاری دو چکیوں کے پاٹ میں پِس رہی ہے ۔ایسا کیوں نہیں ہو تا کہ حکومت جو بھی آئے وہ بلا تفریقِ اَیرا ۔غیرا عوام کو خوشحال کرے۔سُکھ کا سانس لینے دے ۔ اپنے بچوں اور لواحقین کو دو وقتی روٹی عزت سے دینے دے۔
شہباز شریف اور نواز شریف کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ مکافات عمل کا حصہ ہے۔اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو سُکھی نہیں رکھا ۔اللہ تبارک تعالیٰ اپنی تخلیق کو یو ں تباہ ہو تے کیسے برداشت کر سکتا ہے۔ موجودہ حکومت نے بھی ماضی سے سبق نہیں لیا تو اُن کا حشر بھی کچھ ایسا ہی ہو گا ۔ نہ سمجھوگے تو مِٹ جاؤ گے اے حکمرانوں۔تمہاری داستان بھی نہیں رہے گی داستانوں میں۔ ایک صدر نے مُکیّ دکھا کر اپنی طاقت اور غرور کا مظاہرہ کیا ۔آجکل وہ گلی کے تِنکوں کی طرح ذلیل و خوار ہو رہا ہے ۔ایک اور صدر نے عوام کی بجائے ذاتی فائدے کو ترجیح دی ۔غرور کیا کہ اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا۔ آج ساری تفشیشی ایجنسیاں اُس کے پیچھے لگی ہوئی ہیں۔ گزشتہ حکمرانوں نے بھی عوام سے خاص کر پِسی ہو ئی عوام سے رابطہ توڑ رکھا تھا ۔وفاق میں ایک بیورکریٹ فواد حسن فواد اور پنجاب میں حمزہ شریف ڈی فیکٹو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ تھے۔ آج فواد بھی سلاخوں کے پیچھے ہے ۔پہلے اُ س نے نواز شریف کو اندر کروایا اور اب شہباز کی بھی اند ر کروا دیا ہے۔۔ایک نا سمجھ بچے کو بھی سمجھ آتی ہے کہ غریبوں کی آہیں عرش معلی کے دروازے پر دستک دیتی ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہو تی ہیں۔کیا ان سب پچھلے اور موجودہ ھکمرانوں کے دماغ میں یہ سید ھی سادی بات نہیں گھُستی کہ اللہ تعالیٰ کی لاٹھی بے آواز ہو تی ہے جس کا لا ٹھی چارج تو کیا سارے جہانوں کی طاقت ملکر بھی مقابلہ نہیں کر سکتی ۔
شیر کی پارٹی آخری حصہ دھرنا پر بکری بنی رہی ۔ عمرانی جرات مند کارکنوں نے پی ٹی وی پر حملہ کیا ۔صدر ہاؤس کے گیٹ پر خاردار تاریں کاٹیں۔ اند ر داخل ہو کر ایک بڑے لان میں نہائے ۔کپڑے دھوئے ۔بنیانیں اور شلواریں دھو کر صدر صاحب کے گیٹ پر اور ادھر اُدھر پھیلا دیں۔دھوبی گھاٹ کا منظر بنایا ۔وزیر اعظم ہاؤس پر حملہ کیلئے آگے بڑھے۔فوج نے روکا۔ایک پولیس ایس پی کو مارا پیٹا ۔مگر اس سب کے باوجود لاہورسے چل کر کنٹینر اسلام آباد مقررہ جگہ پر پہنچ گیا ۔ ایکشن نہیں ہو ا ۔ریڈ زون میں دھرنا ہو ا چار ماہ سے اوپر تھا ۔کوئی ایکشن نہ تھا ۔ وہ دھرنا کم اور مردو زن کیلئے رات کو لائٹ آف ہو نے کے بعد ہر قسم کی انجوائے منٹ تھی۔ کچھ نہ کیا گیا ۔ دھرنے کے بعد منوں کچرے کے ڈھیر سے کچھ ایسی شواہدی اشیاء سیروں کے حساب سے منظر عام ہوئیں جس پتہ چل رہا تھا کہ موج مستی کھل کر کی گئی ۔کچھ نہیں ہو ا ۔اب کہتے ہیں کہ انتقامی سیاست ہو رہی ہے ۔ حاکم کا کام ہوتا ہے کہ وہ اپنی رِٹ قائم کروائے۔ یہ کام عمران خان صاحب نے حکومت میں آتے ہی شروع کر دیا ۔ اب فرمایا جارہا ہے کہ اُتنی ہی کاروائیاں کریں جتنی آپ خود برداشت کرلیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اب بھی دوبارہ حکمرانی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ آپ کو اب اتنا رگڑا ملے گا کہ آپ حکمرانی کا نام تک لینا بھول جائیں گے۔ جب تک دوسر ی ٹرم آئے گی اُس وقت تک مو جودہ حکمران شیر کو مکمل طور پر بنا چکے ہوں۔ آپ تھلے لگے رہے۔تھلے لگانے والا کوئی اور نہیں آپ کا اور عسکری ونگ کا لاڈلا چوہدری نثار تھا ۔ وہ عمران خان کلاس فیلو پہلے تھا اور سیاست دان بعد میں بنا۔ آپ نے غور نہیں کیا ۔اندھا اعتماد کیا ۔اس نے آپ کو ذلیل و رسوا کر وانے کے لئے عمران صاحب سے گٹھ جوڑ کیا ۔ پولیس کو نہتہ کیا ۔کارکنوں سے پٹوایا ۔آپ کو ڈراتا رہا کہ ایک موت ہو گئی تو آپ پھانسی چڑھ جائیں گے۔ اب آپ جو کچھ سہہ رہے ہیں وہ اس وقت کی بزدلی کی وجہ سے ہے۔ موجودہ حکمرانوں نے صحیح راستہ پکڑا ہے۔ کیونکہ کہان ہے کہ حاکمی گرم کی ،ناری شرم کی ۔تجارت بھرم کی ،دولت کرم کی۔سیانے کہتے ہیں کہ دشمن جب نالی کنارے گرے تو اٹھا کر سینے کے ساتھ لگا لو۔ جب کنویں کے منہ (کنارے) پر گرے تو دھکا دے دو۔ بھاگ شہباز بھاگ ۔تیری پگ نوں لگ گیا داغ۔ ڈھونڈھ مکئی کی روٹی اور سرسوں کا ساگ۔جنتا اور ایک دوسرے کو سنائیے راگ۔