اسلام آباد (عباس ملک)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی اعوان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت تعلیم کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے اور تعلیمی اصلاحات کے زریعے معیار تعلیم کو بلند کرنے کے ساتھ ساتھ ان فرسودہ قوانین کے خاتمے کو بھی یقینی بنائے گی جن کے تحت تعلیمی اداروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی دارالحکومت کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو رہائشی علاقوں سے بے دخل کرنے کے بجائے ان کے لئے متبادل جگہ مختص کی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ اسلام آباد کا ماسٹر پلان چھ لاکھ افراد کے لئے تھا جبکہ اس وقت اسلا م آباد کی آبادی 22 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اس اعتبار سے ہر بیس سال بعد بلڈنگ بائی لاز پر نظر ثانی ضروری ہے ، ماضی میں اس ضرورت کا احساس نہیں کیا گیالیکن ہم اس زیادتی کا ازالا کریں گے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے اسلام آباد پرائیویٹ سولز ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی کے اجلاس میں کیاگیا۔اجلاس میں اسلام آباد کے دیہی و شہری علاقوں کے پرائیویٹ سکولوں کی تمام تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔معروف رہنما زبیر فاروق خان نے کہا کہ ملکی مسائل کی جڑ جہالت ہے جب تک ہم سو فیصد خواندگی کا ہدف حاصل نہیں کرتے ہمارے مسائل جوں کے توں رہیں گے۔ہر وہ ادارہ جوصرف دس طلباء یا طالبات کو تعلیم دے رہا ہے اسے عزت کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ عدالتیں تعلیمی اداروں کے خلاف یک طرفہ فیصلے دے رہی ہیں، میڈیا پرائیوٹ تعلیمی اداروں کو مافیا ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔ میڈیا کے اثرات کی وجہ سے والدین بھی تعلیمی اداروں کے خلاف بول رہے ہیں۔ یہ پاکستان کے خلاف ہی نئی پورے تعلیمی نظام کے خلاق ایک سازش ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر حکومت تعلیم عام کرنا چاہتی ہے یا تعلیمی معیار بلند کرنا چاہتی ہے تو تعلیمی اداروں سے ہر قسم کے ٹیکس اور بے جا پابندیوں فوری طور پر ختم کی جائیں انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات میں حکومتوں اداروں کی طرف سے تعلیمی اداروں کے خلاف منفی پراپیگنڈہ اقدامات ان اداروں کو مستقل بنیادوں پر بند کرنے کے مترادف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنماء علی اعوان اس سنگین صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو حقائق آگاہ کریں اور پرائیوٹ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اورتدریسی عملے کی بے چینی دور کریں۔انہوں نے کہاکہ اس وقت اسلام آبا د میں تین لاکھ پچاس ہزار بچے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور کم و بیش 38 ہزار استاتذہ اس پیشے سے وابستہ ہیں۔صدرپرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن اسلام آباد ذعفران الہی نے کہاکہ اس وقت اسلام آبا د میں تین لاکھ پچاس ہزار بچے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور کم و بیش 38 ہزار استاتذہ اس پیشے سے وابستہ ہیں جن کا مستقبل خطرے میں ہے ۔ انہوں نے موجود ہ حکومت کی توجہ اس اہم مسئلے کی طرف مبذول کراتے ہوئے کہاکہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء و طالبات نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا میں اعلی تعلیم اور قابلیت کی وجہ سے ملک و قوم کا نام روشن کر رہے ہیں لیکن ان تعلیمی اداروں کے خلاف سازش در حقیقت پاکستان کے روشن مستقبل کے خلاف سازش ہے ۔ انہوں نے کہا پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے بارے میں تضحیک آمیز کلمات ادا کئے جانے سے اس شعبے سے وابستہ اساتذہ کرام کی دل شکنی ہو رہی ہے اور ان میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ صدر پرائیویٹ سکولز نیٹ ورک محمد افضل بابر نے کہا کہ دہی علاقوں میں قائم پرائیویٹ تعلیمی ادارے کسی نعمت سے کم نہیں جن کی ماہانہ فیس آڑھائی ہزار روپے سے بھی کم ہے اور وہ معیاری تعلیم فراہم کرکے دیہی علاقوں کے طلباء و طابات کو ترقی کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر پرائیویٹ تعلیمی ادارے نہ ہوتے تو ملک میں شرح تعلیم کا معیاراس قدر نہ ہوتا۔ اجلاس میں دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور تعلیمی مسائل پر روشنی ڈالی