مزارات کی کمائی ۔۔۔محکمہ اوقاف کی موجیں
بشریٰ نسیم
وزیر اعظم عمران خان کالاہور جیسے بڑے شہر میں غریب مسافروں اور مقامی سطح پر بھی کھلے آسمان تلے رات گزارنیوالوں کے لئے پانچ مقامات پر شیلٹر ہومز بنانے کا اعلان خوش آئند ہے اور ایک جگہ پر تو باقاعدہ پناہ گاہ کا افتتاح بھی کر دیا گیا۔اس عوامی منصوبے سے بلا شبہ عوام کی ایک بڑی تعداد مستفید ہو گی۔ضروت اس امر کی ہے کہ مزاروں پردوسرے علاقوں ور شہروں سے آنے والے زائرین کے لئے بھی مسافر خانے بنائیں جائیں ۔اگرچہ کئی بڑے مزارات کے قریب زیارت کے لئے آنے والوں کے لئے کمرے موجود ہیں لیکن ان کا کرایہ یہاں رہنے والوں سے وصول کیا جاتا ہے جبکہ بیت الخلاء سمیت دیگر سہولیات کا فقدان پایا جاتا ہے۔ لاہور میں حضرت علی ہجویریؒ مزارپر روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں عقیدت مند بیرون ملک اور اندرون ملک کے دوردراز کے علاقوں سے کو سلام کرنے آتے ہین لیکن وہ یہاں پر منہ مانگے داموں پر دربار کے نزدیکی قیام گاہوں میں ٹھہرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ حالانکہ صرف حضرت علی ہجویریؒ دربار پر دئیے جانے والے نذرانوں اورچڑھاوں کی مالیت لاکھوں میں ہوتی ہے اس کے علاوہ آمدنی کے بڑا حصہ یہاں موجود مجاوروں اور محکمہ اوقاف کے اہلکاروں کی جیب میں چلاجاتا ہے جس کا کوئی حساب کتاب ہی نہیں ہوتا۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کا مزاروں میں جمع ہونے والی رقم کے استعمال سے متعلق ازخود نوٹس ایک احسن اقدام ہے جس سے یقینًا مزاروں کے نذرانوں اور چندے کی رقم کی بندر بانٹ کا سلسلہ رک جائے گا۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 2018 میں مزاروں سے 80 کروڑ روپے جمع ہوئے۔ جس پرچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ رقم زائرین کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے استعمال ہونی چاہیئے۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ اس رقم سے ملازمین کی تنخواہیں اور پینشن ادا کی جاتی ہے۔ چیف جسٹس نے سیکرٹری اوقاف سے استفسار کیا کہ وہ آخری بار کب حضرت علی ہجویریؒ ؒ ؒ دربار گئے اور کیا اقدامات کیے؟ ۔چیف جسٹس آف پاکستان نے محکمہ اوقاف کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مزاروں کے صندوقوں میں جمع رقم کے استعمال پرمحکمہ اوقاف کے فرانزک آڈٹ کے احکامات بھی جاری کئے۔ محکمہ اوقاف کا قیام اسی مقصد کے لئے عمل میں لایا گیا تھا کہ مزاروں کے انتظامات حکومتی کنٹرول میں آنے سے انتظامات اور سہولیات میں بہتری لائی جائے گی مگر یہاں اس کے بر عکس دکھائی دیتا ہے۔ محکمہ اوقاف کی جانب سے مزاروں کی آمدنی کے وسائل کو دیانت داری سے خرچ کیا ہوتاتو فلاح و بہبود کے کئی منصوبے مکمل ہو جاتے مگر ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا ۔مزارات کی آمدنی کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے اور کبھی بھی کسی حکومت نے اس اہم مسئلے کی جانب توجہ نہیں دی۔مزاروں کے نذرانوں میں محکمہ اوقاف کی بد عنوانی عروج پرہے اور انتہائی مقام پر پہنچ چکی ہے کہ چیف جسٹس کو از خو د نوٹس لینا پڑا۔مزاروں کے بکسوں میں ماہانہ لاکھوں روپے جمع ہوتے ہیں، مزاروں کی پراپرٹی کے کے ٹھیکوں سے حاصل ہونے والی آمدنی اس کے علاوہ ہے۔مگر اس قدر آمدنی کے باوجودسہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں اور عقیدت مندوں کی سیکو ر ٹی بھی سوالیہ نشان ہے ۔مزاروں پر صفائی کی حالت ابتر، جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر اور مزاروں کے تعمیر اتی کاموں میں ناقص میٹریل کے استعمال سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ متعدد مزاروں پر محکمہ اوقاف کے عملے کی نااہلی و عدم توجہی کے باعث دور دراز شہروں سے آنے والے زائرین کو رہائش اور صاف پانی سمیت دیگر سہولیات کے فقدان کا سامنا ہے۔ زائرین میں خواتین کی تعداد زیادہ ہوتی ہے مگر انکے لئے سہولیا ت کی عدم فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کی سیکورٹی بھی بڑامسئلہ ہے ۔جوان لڑکیوں کا زیاہ تر اغواء بھی مزاروں سے ہی ہوتا ہے۔محکمہ اوقاف کا عملہ کہیں نظر نہیں آتا جبکہ نجی ملازمین کی جانب سے زائرین سے چندے کی پیٹی کی آڑ میں پیسے ہتھیانے کا انکشاف بھی ہوا ہے ۔برصغیر پاک و ہند میں اسلام پھیلانے کا سہرا صوفیائے کرام کے سر ہے۔ سیدنا علی ہجویری، خواجہ معین الدین چشتی، خواجہ نظام الدین اولیاء، بابا فرید الدین گنج شکر ، سلطان العارفین سلطان باہو کے اسماء گرامی نمایاں ہیں۔ ان تمام کے دست حق پرست پر بلاشبہ لاکھوں لوگوں نے بیعت کی اورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کے حق دار ٹھہرے۔ آج اس خطے میں اسلام کی جو چہل پہل نظر آ رہی ہے، انہی بزرگان دین کی محنت کا ثمر ہے۔ صوفیائے کرام نے خانقاہیں آباد کیں۔ یہاں دور دور سے لوگ آتے۔ بعض لوگ کئی کئی دن قیام کرتے۔ حسبِ استطاعت ان کے نان نفقہ کا بند و بست کیا جاتا اور ہر قسم کی سہولت فراہم کی جاتی۔کہنے کو تو یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ لیکن قیام و طعام کے جو مقاصد نظر آتے تھے ، آج ناپید ہیں۔ ۔ محکمہ اوقاف کے زیر اہتمام پانچ ہزار کے قریب چھوٹے بڑے مزارات ہیں۔ بارہ کے قریب بڑے بڑے مزارات ہیں جن کی آمدن بلامبالغہ اربوں روپے ہے۔ذاتی جاگیروں کی کمائی اس کے علاوہ ہے۔ مثلا دکانیں، زمینیں، پلاٹ اور پراپرٹی وغیرہ۔سوچنے کی بات ہے کہ اتنی کمائی کہاں جاتی ہے؟ سال میں کتنے غیرمسلموں کو ا س کمائی کے ذریعے دعوت اسلام دی جاتی ہے؟ کتنے نادار لوگ اس سے مستفید ہوتے ہیں؟ کتنی بیواووں اور یتیموں کی داد رسی ہوتی ہے۔ ؟ دیکھا جائے تو یہاں بھی کر پشن کا راج ہے اور درباروں پر قبضہ مافیہ چھائے ہوئے ہیں اب ان کا احتساب کب ہوگا؟ ۔کیا وجہ ہے کہ مزاروں کے مجاور اور گدی نشین کروڑ پتی بن چکے ہیں، ان کے بچوں کے اللوں تللوں پر ہی لاکھوں خرچ ہوتے ہیں جبکہ ان کی فرعونیت کا یہ عالم ہے کہ ان کے نزدیک زائرین و عقیدت مندوں کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہوتی ۔دوسری جانب محکمہ اوقاف کے اہلکاروں نے مزارات کے نذرانہ جات کی رقم خرد برد کر کے کرپشن میں ریکارڈ قائم کر دئیے ہیں۔ تاہم معاشرتی برائیوں کو پھیلانے اور عوام کو جہالت کی جانب دھکیلنے میں ملک بھر میں موجود جعلی مزارات اور پیروں کا اہم کردار ہے۔ بعض بے دین افراد لوگوں کے دینی جذبے سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے مزارات کی آڑ میں گھناونے جرائم انجام دے رہے ہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں میں رونماء ہونے والا واقعات جعلی پیروں کی جہالت اور حکومت کی مزارات پر عدم توجہی کی عام مثالیں ہیں۔ جبکہ ابھی تک مزاروں کی باقاعدہ رجسٹریشن کا معاملہ لٹکا ہواہے۔اگرچہ محکمہ اوقاف نے جعلی پیروں اور عاملوں کے خلاف قانون سازی بھی شروع تھی مگر یہ کام پایہ ء تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔ جس کے تحت جعلی پیروں اور عاملوں کو پانچ سال سے سات سال تک سزا اور جرمانہ بھی عائد کرنے کی تجویز پر غور کیا جا تا رہا۔ اکثر مزارات کی چندے کی پٹیوں سے بڑی رقم مبینہ ملی بھگت کرکے نکال لی جاتی ہے ، یہ چندہ باکس شہر کے مختلف مقامات پر بھی رکھے گئے ہیں جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر آمدن کا بھی شمار نہیں کی جا سکتی ۔ یہ بات بھی زیر غور ہے کہ گدی نشین حضرات کی آمدن کا بھی آڈٹ کروایا جائے ۔صرف لاہور کے ایک بڑے مزار کے دروازوں پر زائرین کی جوتیوں کی حفاظت کے لیے دئیے گئے ٹھیکے کی مالیت کروڑوں میں ہے۔، ذرا غور کریں اتنے زائرین آتے ہیں تو کتنا لنگر پکتا ہو گا اور کتنے نذرانے و چڑھاوے چڑھتے ہوں گے۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دربار کی مجموعی آمدنی کتنی ہو گی ۔صرف محکمہ اوقاف کے پاس کروڑوں روپیہ جاتاہے ،پھر ایسے بھی دربار ہیں ان کی آمدن مجاورہی کھا جاتے ہیں اوقاف کے پاس نہیں جاتی۔ ہمارے بہت سے ایم این اے یا ایم پی اے مخدوم ہیں یا مخدوموں کی اولاد ہیں۔یہ لوگ مزاروں کے جدی پشتی مالک بنے ہوئے ہیں اور خود کو خدا تصور کرتے ہیں۔مزاروں کے چڑھاوے اور نذرانوں پر اپنا حق جتاتے ہیں ۔ لوگوں کی منتوں کے پیسوں پر ہی ان کی شاہانہ زندگی کا دارو مدار ہے۔