امریکی روئیے اور فلسفے سے مسلمان متاثر ہو رہے ہیں
 مقصودانجم کمبوہ
انتشار کے شکار آزاد ملکوں نے جو راہ اپنائی ہے اس پر چل کر وہ کبھی مستحکم جمہوریت اور آزاد معیشت کی منزل پر پہنچ سکیں گے یا وہ بالآخر لا قانونیت او ر جبر و استبداد کا شکار ہو کر ایک بار پھر سامراجیت کو پروان چڑھانے کا سبب بنیں گے ۔ اس بات کا اطلاق خاص طور پر بھارت ،اسرائیل اور امریکہ پر ہوتا ہے جس کے پاس بھاری تعداد میں ایٹمی ہتھیار موجود ہیں ۔ اس کے علاوہ بیلارس ، یوکرائن اور قازقستان بھی ان کے زمرے میں شامل ہیں کیونکہ ان کے ذخیرے میں بھی روائتی اور ایٹمی ہتھیار موجود ہیں ۔ اس سوال کے جواب پر اس بات کا انحصار ہے کہ یورپ میں امن و سلامتی رہے یا نہ رہے بحران کا تیسرا حصہ عالم اسلام پے مشتمل ہے جو کرغیزستان سے آذر بائیجان اور اس کے جنوبی پڑوسیوں پاکستان ، افغانستان اور ایران کے علاوہ بحیرہ روم کے اسلامی ممالک اور مغرب کے مسلمان شامل ہیں ۔ اس وسیع خطے میں قومی ، نسلی ، سیاسی ،مذہبی تنازعات اور اقتصادی بحرانوں کی بھرمار ہے اس بات کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے کہ اس خطے کے ممالک لاقانونیت کی خطرناک دلدل میں دھنس جائیں گے اگر ان ممالک میں استحکام لانے اور انہیں اقتصادی طور پر مدد دینے میں کامیابی حاصل نہ ہوئی تو یہ ملک یورپ و مغرب کے لیے بھی خطرے کا باعث بن سکتے ہیں ۔شمال اور جنوب یعنی امیر اور غریب ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات کا فیصلہ نہ ہوا تو یہ بھی تباہی کی وجہ بن سکتے ہیں ۔جس سے ترقی یافتہ صنعتی ملکوں کی بنیادیں ہل جائیں گی اس کے ساتھ ہی مقابلے بازی کے سائے ساری دنیا میں منڈلا رہے ہیں اور شدت بڑھتی جا رہی ہے اس پس منظر میں مغرب کا اپنے ہی مسائل میں الجھے رہنا اور باقی معاملات کو سرے سے ہی نظر انداز کیے رکھنا اور جس کا طرزِ عمل خاص طور سے جرمنی نے اختیار کر رکھا ہے اس کی وجہ سے صورت حال مضحکہ خیز لگتی ہے اور جرمنی سمیت مغربی ممالک کے رویئے سے یوں لگتا ہے کہ جیسے کہ ’’تاریخ کے اختتام کی منزل واقعی آ چکی ہےامریکہ کو ایسا روئیہ اپنانا چاہیئے جس سے جمہوریت اور آزاد منڈی کی معیشت کا راج ہو ۔ مگر ایسا ہونا بہت مشکل نظر آ رہا ہے ۔ امریکہ ایک ایسا ملک ہے جس کی گرفت پوری دنیا پر تھی ۔جواب امریکی ناپسندیدہ خارجہ و داخلہ پالیسیوں کے باعث متزلزل ہوتی نظر آ رہی ہیں ۔ امریکہ کی ناقص خارجہ پالیسیوں کے باعث دنیامیں آزاد جمہوری روئیے آہستہ آہستہ دم توڑتے نظر آ رہے ہیں ۔ اسرائیل فلسطینوں پر جو ظلم ڈھا رہا ہے اس سے یہ نظر آتا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کو قتل و غارت گری کا لائیسنس دے رکھا ہے ۔ اسی طرح بھارت نے کشمیریوں کا جینا حرام کر رکھا ہے اور اس ساری صورتحال سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ امریکہ پوری دنیا میں دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے اور ظلم و جبر کو جائز قرار دے رہا ہے ۔ برما میں ہی نہیں کئی ممالک میں ظلم و ذیادتی ، جبر و استبداد فروغ پا رہا ہے اور ان کی حمایت میں امریکہ سر فہرست ہےْ ۔امریکہ کے اپنے مفادات کی تکمیل میں چاہے پوری دنیا جل کر راکھ ہو جائے اسے اس سے کوئی غرض نہیں ۔ پوری تاریخ پر نظر دوڑائیں امریکی مفادات نے انسانی لاشوں کے ڈھیر لگائے ہیں ۔ دوسری عالمی جنگ میں لاکھوں جاپانیوں کو جلا کر راکھ کیا ویت نامیوں کے قتل میں امریکہ ملوث رہا ۔ عراق ، شام ، لیبیا اور افغانستان میں امریکہ نے کشت و خون کی ہولی کھیلی ۔ پوری دنیا میں امریکہ کے خوف کے سائے چھائیے رہتے ہیں امریکہ نے اپنے ہی مفادات کے حصول کے لیے 11ستمبر کو اپنے ہی بھائیوں کو آگ میں جلا ڈالا اور سارا ملبہ مسلمانوں پر ڈال دیا اور افغانستان کو تباہ و برباد کر کے چھوڑا ۔ اپنا نقصان پورا کرنے کے لیے افغانستان کے قدرتی وسائل کو لوٹ کر اپنی تجوریاں بھر لیں عراق کا سارا تیل ،سونا اور دیگر معدنی وسائل لے اڑا ۔ میری سمجھ میں تو ایک بات آتی ہے کہ پوری دنیا کے قدرتی وسائل پر امریکہ کی پوری نظر ہے اور وہ ایک ایک کر کے اپنے مقاصد پورے کرتا ہوا نظر آ رہا ہے دنیا کا ہر ذی شعور شہری امریکہ کے روئیے اور فلسفے سمجھ چکا ہے اور جس سے پوری دنیا تذبذب کا شکار ہے ۔ مگر کسی کو جرات اور ہمت نہیں کہ وہ اس پاگل ہاتھی کے پاؤں میں زنجیر ڈال سکے ۔ پاکستان ، ایران اور ترکی کے ساتھ جو کھیل کھیل رہا ہے امریکہ سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے جبکہ سراسر زیادتی کیئے جا رہا ہے ۔ امریکی پالیسیوں سے سب سے زیادہ مسلمان متاثر ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں ۔ یہ بھی ایک سچی حقیقت ہے کہ امریکہ سعودی عرب کو استعمال کر رہا ہے جس سے سعودی حکمرانوں کی سیاسی اور اقتصادی ساکھ مجروح ہو رہی ہے ۔ ہماری تو اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ دنیا میں بد امنی پھیلانے والے ظالموں کو نیست و نابود کرے ،آمین۔