کالم ’’عمران خان کمرہ امتحان میں بیٹھ چکے ‘
‘ نصرت جبیں
ملک سال ۱۹۹۲ سے بہت سی یادیں تازہ ہیں اس سال کوئی انفرادی کامیابی حاصل نہ ہوئی تھی بلکہ بطور قوم ہم اجتمائی طور پر کامیاب ہوئے تھے۔اسکی بنیاد بہت سی ناکامیوں کے بعد رکھی گئی تھی۔اس تمام سفر میں ایک کم گو شخص بہت پرسکوں اور مطمئین رہا ،وہ عمران خان تھا جب ہماری ٹیم مسلسل شکست کے بعد حوصلہ چھوڑ رہی تھی اس آدمی کے چہرے پر بے یقینی اور عدم اطمینان کا کوئی رنگ نہ تھا۔بالکل ایسا سکون جو کسی رہبر کے چہرے پر ہونا چاہے،وہ بھی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے قافلے کے رہنما تھے۔جن کے پاس ’’ کشتیاں جلا دو ‘‘ کی آپشن بھی موجود نہ تھی پھر دیگر کھلاڑیوں نے بھی اس رہنما کی شخصیت سے اطمینان کشید کیا،حوصلے کی رمق اکٹھی کی تو کامیابیاں ان کے اطراف پھلنے پھولنے لگیں ،جیت کی طرف ان کے راستے ہموار ہونے لگے اور منزل تک پہنچنے کے راستے ہموار ہو گئے،پھر وہ مستقل مزاجی اور اور عزمِ مسلسل سے ولڈکپ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔وہ عمران سب کا ہیرو بن گیا ولڈکپ کی کہانی تمام ہو گئی۔اس جیت کی خوشی میں پاکستانی قوم نے کئی دن تک جشن منایا،وطن واپسی پر شرمیلے سے عمران خان ہاتھ ہلا کر لوگوں کے نعروں کا جواب دیتے رہے وہ جانتے تھے کہ انہوں نے صرف ولڈکپ نہیں جیتا بلکہ اپنی قوم کے ہر فرد کا دل بھی جیتا ہے پھر کرکٹ کا باب بند ہوا تو اس شمع کے الاؤ سے شوکت خانم ہسپتال کی بنیاد رکھی گئی جب عمران خان نے امداد کے لئے آواز اٹھائی تو پوری قوم اس مقصد کے لئے دل کھول کر عطیات دینے لگی اور بغیر کسی رنگ نسل،فرقے،طبقے،برادری اور پارٹی کے سب اس کارِ خیر میں حصہ لینے لگے اور چند سال میں کینسر کا ایک بہترین ہسپتال تعمیر ہو گیا۔پھر وقت نے انگڑائی لی اور عمران خان جو قوم کا ہیرو کہلاتا تھا،نے اس میدانِ خار میں قدم رکھا جسے سیاست کہتے ہیں، جہاں ایثار،فریب،انا،ہٹدھرمی،جھوٹ،منافقت اور حق گوئی کی دکانیں بیک وقت کھلی رہتی ہیں یہاں کبھی اصل سکہ چلتا نہیں اور نقل کے کاروبار میں تیزی آجاتی ہے یہاں جب مغاوت کی بو اٹھتی ہے تو پورے نظام کو تعفن زدہ کر دیتی ہے۔اس نگری میں دانوں والوں کے کملے بھی دوسروں کو فریب دے کر مال بنانے میں سیانے ہو جاتے ہیں،یہاں کبھی رہنما راستے میں بھٹک جاتا ہے تو راہزن منزل پا جاتا ہے یہاں نصاب الف سے شروع نہیں ہوتا بلکہ ’’ امیری ‘‘ سے شروع ہوتا ہے اور ترقی ذہانت کی بنیاد پر نہیں بلکہ مفاہمت کی بنیاد پر ملتی ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں زیادہ تر لوگ بندر بانٹ کرتے ہیں،کچھ سانپ کی طرح پھن پھیلائے ڈسنے کے در پہ رہتے ہیں،بہت سے گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں ،کئی گیدڑوں کی سی خصلت لئے میدان چھوڑ بھاگ جاتے ہیں تو چند شیروں کی طرح مقابلہ کرتے ہوئے جاں کی بازی ہار جاتے ہیں ۔عمران خان نے اس میدان میں بھی طویل جدوجہد کی،ان پر الزانات بھی لگے، مک مکا کی کوشش بھی کی گئی،رکاوٹیں بھی ڈالی گئی پھر جس مقام پر وہ پہنچنا چاہتے تھے کروڑوں لوگوں کے ووٹ نے ان کو اس پر پہنچا دیا،وہ وزیر اعظمِ پاکستان بننا چاہتے تھے کرکٹرمسٹر خان کی کہانی ولڈ کپ کے حصول کے ساتھ تمام ہو گئی مگر وزیر اعظم عمران خان کی کہانی الیکشن جیتنے کے بعد شروع ہوئی ہے ایک مرتبہ انہوں خود کہا تھا ’’ کہ جب آ کسی کو اعتماد دیتے ہیں تو وہ آپ کو سب کچھ دیتا ہے ‘‘ اب ووٹ اعتماد کی صورت میں ان تک پہنچ چکا ہے۔اب وزیر اعظم عمران خان کمرہ ئامتحان میں بیٹھ چکے ہیں ان کے وعدوں اور ارادوں کا امتحان شروع ہو چکا ہے ان کو اپنی ساکھ بنانی نہیں بلکہ بچانی ہے اور اس کا تعین ان کا اعلی کردار، دوٹوک فیصلے اور غیر انتقامی جزبے کریں گے خدا کرے کہ ایسا نہ ہو جائے کہ وزیرِ اعظم عمران خان عوامی اعتماد کے ساتھ کرکٹر عمران خان کے روشن چہرے کو بھی بے رنگ کر دیں اور کبھی مشکل حالات میں بھی پر سکون نظر آ نے والے اپنی قوم کو بے سکون نہ کر دیں۔