اظہاریہ
تحریر۔ مسیح اللہ خان جامپوری
اک کہرام تھا
سورج اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ
ڈوبنے کوتیار تھا
زیتون کی شاخ پر بیٹھی اک اداس فاختہ اور بلبل
یہ منظر دیکھ کر کِھل اُٹھے
امن سلامتی کے گیت گانے لگے
یہ منظر کسی کو نہ بھایا
بندوق بردار بلائے گئے
فاختہ اور بلبل کوگیت گاتے
رنگے ہاتھوں دھر لیا گیا
از خود نوٹس ہوا
فاختہ اور بلبل بھوکے پیاسے عدالت لائے گئے
فرد جرم عائد ہوئی
الزام بغاوت تھا
جرم حشر سامانیوں کے گھاؤ پر نمک پاشی ٹھہرا
جے ٹی آئی بنی ، رپورٹ پیش ہوئی
سفارش تھی ڈائیلاگ کی
نتیجہ یہ نکلا
بندوق کی بالا دستی امر ٹھہری
بہتے لہو پر گیت گانے کے جرم میں
فاختہ کے پر نوچ ڈالے گئے
بلبل نہ سہہ سکا
بندوق کی نال پر جا ٹکرایا
اگلی صبح سورج اپنی تمام حشر سامانیوں کے ساتھ
پھر سر اٹھائے نکل کھڑا ہوا
عدالت کی عظمت کے گیت اور جنگی ترانے گاتے ہوئے
لوگ تڑپتے رہے ، مرتے رہے
مجھے نفرت ہے
ایسے نظام سے
ایسے کام سے
فاختہ نے یہ کہتے ہوئے دم توڑ دیا