لندن: نشے کی لت انسان کی اخلاقیات کو تباہ کرتی ہے اور قبل از وقت موت سے دوچار کر دیتی ہے۔ اس کی ایک نئی اس برطانوی لڑکی کی صورت میں سامنے آئی ہے جو نشے کی لت میں پڑ کر سوشل میڈیا کے ذریعے جسم فروشی پر مجبور ہوئی اور پھر انتہائی کم عمری میں موت کے منہ میں چلی گئی۔ میل آن لائن کے مطابق 18سالہ لیڈی بیتھ ڈوگلس نامی اس لڑکی کا تعلق برطانوی اشرافیہ کے ایک امیر گھرانے سے تھا، اس کا باپ مارکوئس آف کوئین بیری کے عہدے پر فائز تھا جو ایک لحاظ سے شاہی عہدہ ہے۔ لیڈی بیتھ، جو لنگ لنگ کے نام سے معروف تھی، انتہائی کم عمری میں ہیروئن اور کوکین کے نشے کی عادی ہوئی اور پھر اس کے لیے درکار رقم حاصل کرنے کی خاطر اس نے جسم فروشی کا دھندہ شروع کر دیا۔ اس نے ٹوئٹر سمیت کئی سوشل میڈیا ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز پر اکاﺅنٹس بنا رکھے تھے جن کے ذریعے وہ مردوں سے رابطہ کرتی اور رقم کے عوض انہیں اپنا جسم بیچتی تھی۔