تحریر : منیر احمد کراچی

سندھ کےبہت سے وڈیرےدنیاکےگھٹیاترین انسان ہیں بلکہ انسانیت نام کی کوئی چیز ان میں نہیں ھے یہ کسی غریب کی بہن بیٹی کو دیکھ لیں تو ایسے رال گراتے ہیں جیسےناپاک جانور کےمنہ سےگرتی ھے اور طاقت کےنشےمیں چور یہ سیدھااس لڑکی کے بھائی یا باپ کو کہتے ہیں کہ لڑکی کو حویلی چھوڑجاؤ اگر وہ زندگی بچانے کےلئے چھوڑدیں تو ٹھیک ھےہاتھوں سےبیٹی کورکھیل بنادیں ورنہ باپ بھائی قتل کردئیے جاتے ہیں یاپھر پولیس کےذریعےکیس بنواکرساری زندگی جیل میں، یہ کہانیاں سندھ کےہر گوٹھ اور ہرگاؤں کی ہیں ان کومیڈیاپر آنے نہیں دیاجاتاکیونکہ حویلیوں کی دیواریں بہت اونچی ہوتی ہیں۔ یہ ظلم صدیوں سے ہورہاھےکوئی نہیں بولتا اور جوبولتاھے خاموش کروادیاجاتاھےایساہی ایک واقع تصویر میں موجود لڑکی کاھےجس کے بھائی اورچچاکوقتل کردیاگیاھےاور لڑکی کو وڈیرےکےلوگ اغواکرکہ لےگئے اور شاید کبھی یہ لڑکی وڈیرےکے بیڈروم سےبھی باہرنانکل سکےحویلی سےنکلناتودورھے کچھ دن پہلے بھی ایک لڑکے نے میڈیاکوبتایاتھاکہ میری بہن کوبھلی خاندان کےوڈیرےلےگئےہیں اس کی منگنی کے دن اور دوبارہ واپس نہیں آئی کیونکہ وہاں وڈیرےکاحکم ھے کہ میرے علاقےکی ہرلڑکی شادی سے پہلے مجھے پیش کروورنہ انجام براہوگا لعنت ھے سندھ پر حکومت کرنے والوں پر جن کی ناک نیچےیہ سب ہوتاھے شایدخود بھی کرتے ہوں۔۔۔۔۔