کراچی: سابق رکن قومی اسمبلی فاروق ستار نے کہا ہے کہ کوئی این آر او نہیں مانگ رہا،23 اگست کے دن ہم ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں، زبردستی مقدمہ بنایااب چلانہ چاہتے ہیں تو بھلے چلائیں،کراچی کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ 22 آگست کی مقدمے میں 5 جنوری کی تاریخ مل گئی ہے، ہم ہر تاریخ پر آتے ہیں،، لیکن آج استغاثہ کی جانب سے تاریخ لی گئی، ہم مقدمات کو منہ دے رہے ہیں، ہم میں سے کسی پر بھی یہ مقدمہ نہیں بن رہا ہے، اس سے کورٹ اور ہمارا وقت خراب ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملکی معشی صورتحال تشویشناک ہے، سرمایہ کاری کا نظام لرز گیا ہے ملکی معاشی صورتحال بدتر ہوگیا ہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بری طرح سے ختم ہوتا جا رہا ہے، 100 روز میں مہنگائی اور غربت بڑھی ہے،معاملات اس حد تک بے قابو ہوگئے ہیں کے اب کسی کے بس کی بات نظر نہیں آتی،معاشی ماہرین یا تو تجربہ نہیں رکھتے یا کوئی معاشی ماہر نہیں، فاروق ستارنے کہا کہ کراچی ملک کا معاشی انجن ہے لیکن اب اس انجن کو بٹھانے کی کوششیں ہورہی ہیں،ناجائز تجاوزات ہٹائیں ہم ان کے ساتھ ہیں، سپریم کورٹ کا حکم سر آنکھوں پر لیکن ان کے حکم کے آڑمیں جائز قبضے کو خالی کیا جارہا ہے