تجارتی سرگرمیاں اور پاکستان
مقصود انجم کمبوہ
یہ بات باعث حیرت نہیں ہے کہ خوراک و زراعت کے وسائل سے مالا مال ممالک عالمی تجارت کے میدان میں نمایاں حثیت کے ممالک نہیں ہیں ۔ تقسیم اور کھپت میں واضع فرق اورعدم مساوات اور دارومدار بڑی حد تک اشیاء کی مارکیٹنگ یا فروخت کے موثر انتظامات پر ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ اناج اور خوراک پیدا کرنے والے ملکوں کی ضرورت سے کہیں زیادہ خوراک حاصل ہوتی ہے اور اس حاصل خوراک کو فروغ پذیر غیر ملکی منڈیوں میں بھیجا جا سکتا ہے ۔ پاکستان کا شمار بھی ایسے ملکوں میں ہوتا ہے جسے قدرت نے انواع و اقسام کی مرغوب اور فرحت بخش نعمتوں سے نوازا ہے جس کا عالمی منڈیوں کو پوری طرح علم نہیں ہے ۔ پاکستان میں متعلقہ شعبے کے لوگوں میں یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے پاکستان اس شعبے میں بے پناہ وسائل رکھتا ہے اور یہ کہ ان وسائل میں اضافہ کرنے کی بہت گنجائش ہے ۔ اپنے ان وسائل کی کھپت کے لیے بیرون ملک موزوں منڈیاں تلاش کی ہیں ۔ اور مزید منڈیوں کی تلاش کرنے کا سلسلہ جاری و ساری ہے ۔ اسی مقصد کے تحت حکومت نے اشیاء خورد و نوش کے بین الاقوامی میلے میں شرکت کا دانشمندانہ فیصلہ کیا تھا ۔
انوگا نامی یہ میلہ جرمنی کے شہر کولون میں ہر دو سال بعد منعقد ہوتا ہے جس میں خوراک پیدا اور تیار کرنے والوں ہوٹل کی صنعت ، کاشتکاروں ، کھانے پینے کی اشیاء تیار اور انہیں ڈبوں میں بند کرنے والے کارخانے داروں اور ریستورانوں وغیرہ کے ہزاروں نمائندے شرکت کرتے ہیں ۔ ان کے ساتھ ہی ان اشیاء کے ہر سطح کے خریدار بھی میلے میں حصہ لیتے ہیں ۔ اس میلے میں شرکت سے صرف جرمنی کی منڈی میں رسائی حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس میلے کے ذریعے یورپ ، امریکہ ، ایشیاء ، بحرالکاہل کے ملکوں تک رسائی حاصل ہوتی ہے ۔
پاکستان نے انوگا میلے میں 1993ء میں پہلی بار حصہ لیا اور بھرپور انداز میں شرکت کی مجموعی طور پر پاکستان کی بارہ کمپنیوں نے میلے میں حصہ لیا ۔ انوگا میلے میں پاکستان کی شرکت پاکستان کے برآمدی ترقی کے بیورو اور بون میں پاکستانی سفارت خانے کی کوششوں کا نتیجہ تھی ۔ پاکستانی فرموں نے میلے میں بہت سی اشیاء نمائش کے لیے رکھیں جن میں باسمتی اور دیگر اقسام کے چاول ، یخ بستہ جھینگے اور کیکڑے ، خشک میوہ جات ، خشک کھمبیاں ، کھجوریں ، مصالحے اور پھلوں سے تیار کی جانے والی مصنوعات اور مربہ جات شامل تھے ۔ پاکستان کو اس عالمی میلے میں پہلی بار شرکت کے فوائد حاصل ہونا شروع ہوئے ۔ پاکستان کا باسمتی چاول جو اپنی مہک اور ذائقے کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے میلے میں خریداری کی توجہ کا مرکز بنارہا۔ حقیقت یہ ہے کہ باسمتی چاول کی مقبولیت بڑھنے سے یہ عرب ممالک میں بھی اچھی خاصی مقدار میں فروخت ہوتا ہے۔ پاکستانی پوپلین پر بھی لوگوں کا جمگھٹا دیکھنے میں آیا ۔ پاکستانی اشیاء لوگوں کے لیے باعث کشش ہیں ۔ یورپی شہریوں کے علاوہ بعض افریقی ملکوں کے خریداروں نے بھی پاکستانی اشیاء کی خریداری میں خاصی دلچسپی لی ۔ یہ میلہ پاکستانی تاجروں کے لیے خاصہ حوصلہ افزا رہا ۔
انوگا میں پاکستان کی شرکت میں فنی تعاون کے جرمن ادارے (جی ٹی زیڈ) کا تعاون رہا ۔ حکومت پاکستان چاہے تو متعلقہ شعبوں کو انقلابی بنیادوں پر متحرک کر سکتا ہے اور زر کثیر کما کر ملکی خزانے کو چار چاند لگا سکتی ہے ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ سفارت خانوں میں سفیر اور قونصل خانوں میں ڈائریکٹروں کی بھرتی سیاسی بنیادوں پر ہونے سے تجارتی شعبہ ہر روز زوال پذیر ہوتا دکھائی دے رہاہے ۔ میاں نواز شریف کے دور میں نہ صرف تجارتی شعبہ غیر فعال ہوا بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی بلا کی کمی پیدا ہوئی۔