اسلام آباد: چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے منشا بم کی جانب سے زمینوں پر قبضے سے سے متعلق کیس کی سماعت کی جس دوران آئی جی پنجاب بھی طلب کر نے پر پیش ہوئے اور منشابم کے ساتھ اس کے بیٹے کو بھی عدالت میں لایا گیا ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے عدالت میں ریمارکس دیتے ہو ئے کہا آپ سے تو منشا بم بھی نہیں پکڑا گیا تھا ، منشا بم مری میں رہ رہا تھا اور آپ سے اسے گرفتار نہیں کیا جا سکا اور اس نے خود سپریم کورٹ میں آ کر گرفتاری دی تھی ۔منشا بم نے عدالت میں آنے کے بعد رونا شروع کر دیا اور رحم کی اپیل کی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تمہیں اس وقت رونا نہیں آیا جب لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کیا تھا ,تمہیں خوف خدا نہیں، کیا مرنا یاد نہیں ہے؟۔ منشا بم نے جواب دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ میں نے کسی کی بھی زمین پر قبضہ نہیں کیا تھا۔ منشا بم کے جواب پر چیف جسٹس نے کہا کہ تمہارے لیے کبھی افضل کھوکھر آجاتا ہے، کبھی کوئی اور، بتایا جائے کہ شہری علاقوں میں تحصیل دار کس طرح کا کام کر رہے ہیں،تحصیلداروں نے تباہی کر رکھی ہے، کسی کی زمین کسی کے نام کردیتے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے ڈی سی لاہور کو آج ہی معاملات حل کرکے کل (اتوار) تک رپورٹ دینے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔