لاہور: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ روپےکی قدر میں کمی سے گھبرانےکی ضرورت نہیں، جلد منی لانڈرنگ کے خلاف سخت کارروائی کریں گے،مشکل حالات سےنکلنے اوربرآمدات بڑھانے کے لیے بنیادی اقدامات کررہے ہیں اور اس کے لئے برآمد کنندگان کو ہرممکن سہولت دیں گے،سعودی عرب،چین اورمتحدہ عرب امارات سے مثبت ردعمل آیا، غیرملکی سرمایہ کاری کارحجان بڑھ رہا ہے، غیرملکی سرمایہ کاری سے ہی ممالک ترقی کرتے ہیں، 27 سال بعد دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ایگزون پاکستان آرہی ہے، حلال گوشت کی کمپنیاں پاکستان آکرسرمایہ کاری کرنا چاہتی ہیں۔  وزیراعظم عمران خان  نے لاہور چیمبر آف کامرس سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ انسداد منی لانڈرنگ کا قانون اگلے ہفتے  متعارف کریں گے اور سرمایہ دار کی حوصلہ افزائی کے لیے ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی ،سرمایہ کاروں  کی تکالیف وزیر اعظم ہاؤس کے خصوصی دفتر سے دور کی جائیں گی،ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کیلیے حکومت بہتر اقدامات کر رہی ہے،غیرملکی سرمایہ کاری کارحجان بڑھ رہا ہے، برآمدات بڑھانے کے لیے اقدامات کررہے ہیں اور اس کے لئے برآمد کنندگان کو ہرممکن سہولت دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، چین اورمتحدہ عرب امارات سے مثبت ردعمل آیا،   2013 میں جاری کھاتوں کا خسارہ ڈھائی ارب تھا،جاری کھاتوں کے خسارے کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اوورسیز کو سہولیات دینے سےترسیلات زر10 ارب تک پہنچ سکتی ہے،پاکستان کا حلال گوشت کی مارکیٹ میں کوئی حصہ نہیں جبکہ اس کی مارکیٹ 2 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے۔ وزیراعظم عمران خان  کا کہنا تھا کہ پاکستانی کی جغرافیائی اہمیت ہے، لوگ سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں، غیرملکی سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کیں اور انھیں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے،27 سال بعد  تیل کی بڑی عالمی کمپنی ایگزون پاکستان آرہی ہے، ایگزون کمپنی پاکستان میں گیس کے بڑے ذخائر تلاش کرے گی، ان کا اندازہ ہے کہ پاکستان میں گیس کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہسرمایہ کار کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور مثبت رویے کو دیکھ ہی دیگر سرمایہ کار پاکستان میں آئیں گے لیکن پاکستان میں سرمایہ کار کے لیے مشکلات کے پہاڑ کھڑے کردیئے جاتے ہیں،سرمایہ کار کو درپیش تمام مسائل پرائم منسٹرہاس میں قائم ہونے والے دفتر سے حل کیے جائیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان نے بڑے ٹیکس دہندان کے خلاف ریاستی اداروں کے منفی ردعمل انتہائی مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ  ملک میں سالانہ  10 اربروپے کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے جس کے سدباب کے لیے اگلے ہفتے تک قانون متعارف کرائیں گے  تاکہ منی لامنڈرنگ کے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکے، منی لانڈرنگ کے خلاف قانون لا رہے ہیں، زبردست کریک ڈاون کرنے لگے ہیں،1970 کی دہائی میں شروع ہونے والی پالیسی کے نتیجے میں ملک تنزلی کی طرف گامزن ہوا اور اس کے ثمرات آج بیوروکریسی اور سیاسی جماعت کے سرمایہ کاروں سے عدوات کی صورت میں نظر آتے ہیں،ہماری گورنمنٹ کی پلاننگ یکسر بدلنے والی ہے، ملک میں لوگوں کے لئے بزنس کے لئے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں، برآمدات بڑھانے کے لیے اقدامات کررہے ہیں اور اس کے لئے برآمد کنندگان کو ہرممکن سہولت دیں گے۔