اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دو ٹوک انداز میں بھارتی حکومت پر واضح کیا ہے کہ سکھ برادری کو پاکستان سے متنفر کرنے کی مذموم سازش کامیاب نہیں ہوگی۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی ہم منصب سشما سوراج کی ہرزہ سرائی کا مدلل اور جامع جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ مذاکرات کے حوالے سے میرے بیان کو سکھ برادری سے منسوب کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کرتار پور بارڈر کے کھلنے پر بھارتی وزیر خارجہ کے بیان پر میرے ردعمل کو سوچی سمجھی سازش کے تحت توڑ مروڑ کے پیش کیا جا رہا ہے تاکہ سکھ بھائیوں کے جذبات کو مجروح کر کے پاکستان سے متنفر کیا جا سکے۔ شاہ محمود قریشی نے بھارتی ہم منصب کا نام لیے بغیر کہا کہ میرا بیان پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ مذاکرات کے تناظر میں تھا اور صرف پاک بھارت مذاکرات کے لیے ہی مخصوص تھا لیکن اس بیان کو سکھ برادری سے منسوب کرنے کی کوشش کی گئی۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان سکھ برادری کی دل کی گہرائیوں سے قدر کرتا ہے اور سکھ برادری کے جذبات کا بے حد احترام کرتا ہے اور کوئی بھی پروپیگنڈا اس رشتے کو نہ تو توڑ سکے گا اور نہ ہی متنازعہ بنا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے احترام کے اسی کے رشتے کے تحت سکھ برادری کی برسوں پرانی دلی خواہش کو پورا کرنے کے لیے کرتار پور راہداری کو کھولا، ہم نے یہ تاریخی اقدام نیک نیتی سے اُٹھایا ہے اور نیک نیتی کے ساتھ یہ سفر آگے بھی جاری رہے گا۔ واضح رہے کہ بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج نے اپنے پاکستانی ہم منصب کے گگلی والے بیان کو سکھ برادری سے نتھی کرنے کی کوشش کی تھی۔ شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ عمران خان نے کرتارپور کی گگلی پھینکی تو بھارت کو اپنے وزیر بھیجنے پڑے تھے۔