اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ فوج حکومت کے ہرفیصلے کے پیچھے کھڑی ہے ، کابینہ میں وزراءکی تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ ایک ہفتے میں کیا جا سکتا ہے ،چیئر مین پی اے سی کے معاملے پر اپوزیشن نہ مانی تو حکومت قائمہ کمیٹیاں بنادیگی ، ہر ادارہ خسارے میں ہے ، نام سامنے آنے سے بڑے بڑے لوگ ڈر رہے ہیں، اعظم سواتی کی غلطی ہوئی تو خودمستعفی ہوجائیں گے ، اپوزیشن چاہتی ہے کہ جمہوریت کیلئے اتفاق رائے کی بات کروں ، عثمان بزدار وسیم اکرم پلس ثابت ہوگا ۔  صحافیوں سے انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ سنسر شپ اس لئے بری ہوتی ہے کہ معلومات چھپائی جاتی ہیں، ایسا وہ کرتاہے جو اپنی باتیں پبلک میں لانا نہیں چاہتا ، اس کو خوف ہوتاہے کہ میں کچھ غلط کررہا ہوں اور میر ے کام باہر نہ نکلیں۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ میری حکومت اتنی شفا ف ہوکہ اس سے قبل کوئی حکومت ایسی شفاف نہ ہوئی ہو، اگر کوئی میرا وزیر غلط کام کررہاہے تو اس کا پتہ چلناچاہئے ،مجھے اس سے کوئی خطرہ نہیں ہے ، اس لئے پی ٹی وی پر سنسر شپ ختم کردی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سو دن میں ترجیحات کا تعین کیا جاتاہے ،ہمارا سارانظام صرف ایک چھوٹے سے طبقے کواوپر کرنے کیلئے بنا ہواہے ، ہم تعلیم اور صحت کے حوالے سے غریب آدمی کوبھی برابر سہولیات دیناچاہتے ہیں، غریبوں کیلئے ہیلتھ کارڈ اورقانونی امداد کا نظام سارے ملک میں لیکر آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا مقصد یہ کہ اصل غربت دیہات میں ہے لیکن ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں ، ہم تھوڑے پیسے دیکر دیہات میں چھوٹے کسانوں اورخواتین کو با اختیار بنانا چاہتے ہیں، ہمار ی اوپر سے لیکر نیچے تک ایک پالیسی ہی ہوگی۔ مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں اضافے کے حوالے سے سوال پر عمران خان نے کہا کہ ڈالر کے حوالے سے ا سٹیٹ بینک نے فیصلہ کیاہے ، اسٹیٹ بینک نے معاشی حالت کے حوالے سے فیصلہ کیاہے ، پچھلی حکومت ہمارے لئے19ارب ڈالر کاخسارہ چھوڑ کرگئی ہے ، مارکیٹ دیکھتی ہے کہ جب اتنا بڑا خسارہ ہے تو ڈالر خریدو ، پچھلی حکومت نے روپے کی قیمت برقرار رکھنے کیلئے سات ارب ڈالر خرچ کیا اور ڈالر کو مصنوعی طور پر برقرار رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی آپ کے ملک کا مطالعہ کرتاہے تو وہ آپ کاخسارہ دیکھتاہے ۔اسٹیٹ بینک ایک خود مختار ادارہ ہے،اس نے معاشی حالات کے مطابق روپیہ گرانے کا فیصلہ کیا ، مجھے اس بات کا پتہ نہیں تھا ، اگر مجھے پتہ ہو تا تو میں اسٹیٹ بینک سے کہتا کہ اس کام کو کسی اور طریقے سے کریں یا ابھی تھوڑا انتظار کریں۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اب اسٹیٹ بینک کو پابند کیا جارہاہے کہ ایساکرنے سے پہلے حکومت کوعلم ہونا چاہئے کہ کیا ہورہاہے ؟ یہ ایڈ جسٹمنٹ اپنا زرمبادلہ بچانے کیلئے ایک عارضی عمل ہے ،آگے جاکر ہمیں یہ مسئلہ نہیں آئے گا کیونکہ ہمار ے تمام اقدامات درست سمت جارہے ہیں، ہماری ایکسپورٹ ، ترسیلات زر میں بہتری آرہی ہے جبکہ چھوٹی سے مدت میں بڑے بڑے سرمایہ کاربھی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے آرہے ہیں ،ہم سرمایہ کار ی کے حوالے سے چائنہ ماڈل لیکر آرہے ہیں، منی لانڈرنگ کے حوالے سے ہم اس ہفتے سخت قانون لیکر آرہے ہیں کیونکہ ہمارا ہرسال دس ارب ڈالر تو غیر قانونی طریقے سے باہر چلا جا تاہے ۔ وزراءکی کارکردگی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ تمام وزراءنے مجھے رپورٹ دی ہے کہ ہم نے کیا کیا ہے اور کیا کرنے جارہے ہیں؟میں اس ہفتے ان کی کارکردگی رپور ٹ دیکھوں گا اور ہوسکتاہے کہ میں کئی وزیر وں کوتبدیل کردوں۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں میں نے جتنی محنت کی ہے ، اتنی محنت میں نے کبھی زندگی بھر نہیں کی ، پاکستان کا ایک ایک ادارہ نقصان کررہا ہے،ہم نے اداروں کوٹھیک کرنے کیلئے ملائشیا اور سنگا پور کے ماڈلزکا مطالعہ کیاہے اور اسی طرح ہم نے ان تمام اداروں کو پیشہ وارانہ طور پرچلاناہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی بڑی زبر دست ہے ، آنیوالے دنوں میں پاکستان میں استحکام آئے گا، ہم نے کسی جگہ پر مداخلت نہیں کی ، سی ڈی اے میرے زیر انتظام ہے لیکن وہ بنی گالا کہ حوالے سے رپورٹ دے رہے ہیں اور میرے خلاف انکوائری ہورہی ہے ، اس حوالے سے پہلے کبھی ایسا ہوا تھا ! اعظم سواتی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے جو فیصلہ آئے گا ہم اس پر عمل کریں گے اور کسی کوتحفظ دینے کیلئے کوئی مداخلت نہیں کریں گے ، حکومت نے کسی ادارے یا جے آئی ٹی میں مداخلت نہیں کی ، اعظم سواتی کے معاملے پر بھی کوئی مداخلت نہیں کی ، بابر اعوان نے ریفرنس آنے پر خود استعفیٰ دیا تھا اور اگر اعظم سواتی کی غلطی ہوئی تو وہ خود مستعفی ہونگے ۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے میرے نیچے ہے اور اعظم سواتی کے خلاف انکوائری ہے، کیا میں اثر انداز نہیں ہوسکتاتھا ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ عثمان بزدار وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں اب ان کے پاس ایک شخص آکر شکایت کرتاہے کہ کسی کی بیٹی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ، وہ بشریٰ بی بی کی بیٹی ہے تو کیا ایک وزیر اعلیٰ ایک پولیس آفیسر کو بلا کر پوچھ نہیں سکتا ؟ زلفی بخاری کے معاملے پر چیف جسٹس کی اس بات پر افسوس ہوا جب چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے پر اقربا پروری ہوئی ہے ، جیسا وزیر اعلیٰ پنجاب اس وقت ہے ، ایسا وزیر اعلیٰ پنجاب کبھی ہم کوملا ہی نہیں جس کے دروازے ہر وقت لوگوں کیلئے کھلے ہیں، ڈی پی او پاکپتن کو وزیر اعلیٰ نے تبدیل نہیں کیا بلکہ ڈی پی او کو آئی جی پنجاب نے تبدیل کیا تھا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں1970کے بعد ایک کلچر بن چکا کہ بائیس خاندانوں میں ساری دولت چلی گئی ہے اور ان بائیس خاندانوں کے خلاف ہوتے ہوئے سرمایہ کاری کے خلاف ماحول بن گیا ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک سرمایہ کاروں کی پیسہ بنانے میں مدد نہیں کی جاتی تو پیسہ بنتاہی نہیں ہے ۔ پاکستان کا سارا کلچر اینٹی بزنس مین اور اینٹی سرمایہ کاری ہوگیا ، پاکستان بزنس کرنے والوں کیلئے آسانیاں فراہم کرنے والوں ملکوں میں سب سے پیچھے ہے ۔ ہم نے بڑے بڑے سرمایہ کار گر وپوں کویقین دہانی کروائی ہے کہ ان کی بھرپور مدد فراہم کریں گے اور ان کی آسانی کیلئے و ن ونڈو آپریشن شروع کیا جائیگا ، ہماری پوری کوشش ہے کہ سرمایہ کاروں کیلئے آسانی پیدا کریں اور ہمیں یقین ہے کہ ہم کامیاب ہوجائیں گے ۔ ہم نے پہلی بار یہ کیاہے کہ پالیسی بنانے والوں اور ٹیکس اکٹھا کرنے والوں کو الگ الگ کردیاہے ، اب ٹیکس صرف ایف بی آر اکٹھا کرے گی ،ہم سارا کچھ تبدیل کررہے ہیں اور پوری کوشش یہ ہے کہ لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اینٹی کرپشن پروگرام ایجاد نہیں کیا ، چائنہ اگلے دس سالوں میں امریکہ کوپیچھے چھوڑ جائے گا ، اس وجہ چائنہ نے کرپٹ وزراءکے خلاف کارروائی کی ہے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ پرانی سوچ کے بیوروکریٹس بیٹھے ہوئے ہیں اور اربوں روپیہ بنا چکے ہیں، یہ اس سارے عمل کو سبوتاژ کرنے کی پوری کوشش کررہے ہیں ، نیب میرے نیچے نہیں ہے ، اگر میرے نیچے ہوتی تو اس وقت پچاس لوگوں کوجیل میں ہونا تھا ، مجھے افسوس سے کہناپڑتاہے کہ نیب پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں ہے ، ہم ایف آئی اے کوٹھیک کررہے ہیں ، ہم اب تک ہزاروں ایکٹر اراضی واگزار کرواچکے ہیں ، میں نے ہدایات دی ہیں کہ کسی کے گھر کو نہیں گرانا بڑے بڑے مافیا پر ہاتھ ڈالناہے لیکن یہ چھوٹے لوگوں پر ہاتھ ڈالتے ہیں اور گھروں کوگرا دیتے ہیں جس سے بچے اور عورتیں رو رہے ہوتے ہیں اور ایسا یہ مافیا کے کہنے پر کرتے ہیں جس کی وجہ سے مافیاز بچ جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آہستہ آہستہ جوبھی رکاوٹ بنے گا اس کا صفایا ہوتا جائے گا ، ہماری ٹیمیں بن رہی ہیں ، جدھر جدھر ہمیں یہ لوگ رکاوٹ بنتے نظر آئیں گے ، ہم ان کوتبدیل کردیں گے، عثمان بزدار نے ڈی پی او اورڈسی سی سیالکوٹ کو باقاعدہ وزٹ کرکے ان کی کارکردگی پر ہٹایاہے ، حکومت الزام نہیں لگاتی بلکہ ثبوتو ں کی بناءپر لوگوں کوجیلوں میں ڈالتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 26ملکوں سے معاہدے کئے ہیں کہ ہم آپ کو غیرملکیوں کا ڈیٹا دیں گے اور آپ ہم کوہمارے شہریوں کا جو ملک سے باہر بیٹھے ہیں ، ان کا ڈیٹا دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بیر ون ملک پاکستانیوں کے گیارہ ارب ڈالر کا انکشاف ہواہے لیکن جب ہم نے دبئی سے ڈیٹا منگوایا تو ہمیں اقامہ ہولڈز کے اکاﺅنٹس کی معلومات نہیں دی گئیں اور بتایا گیا کہ اقامہ ہولڈر ز عرب امارا ت کے شہری تصور کئے جاتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے یہ اقامے لیتے ہیں تاکہ منی لانڈرنگ کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈرے اس لئے ہوئے ہیں کہ جیسے جیسے ہمیں معلومات ملتی جارہی ہیں کہ ڈرائیورز کے دبئی میں پانچ پانچ دبئی گھر ہیں اور جو معلومات دبئی سے آرہی ہیں ، وہ حیران کن ہے کہ کیسے کیسے پیسہ ملک سے باہر گیاہے؟ یہ معلومات ملنے کے بعد قانون ہے کہ ان کوبلا کر پوچھا جا سکتاہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں قوم سے کہناچاہتا ہوں کہ ڈالرز کی کمی نہیں ہونے لگی ، اس وقت ادار ے تباہ ہیں، حکومت کا نظام ٹھیک کرکے ہم اس طرف بھرپور توجہ دیں گے ، انہوں نے انکشاف کیاکہ گیس تلاش کرنیوالی کمپنی ایگزون گروپ نے بتایا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اتنی گیس دریافت ہوجائے کہ پچاس سال تک پاکستان کوگیس کی ضرورت ہی نہ پڑے ، ایگزون گروپ 27سال بعد پاکستان میں سرمایہ کاری کررہاہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کو جیل سے لاکر پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا چیئر مین بنانے سے کیا پاکستان کادنیا میں مذاق نہیں اڑے گا ، انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن نہ آئی تو ہم پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا چیئر مین اور قائمہ کمیٹیاں بنادیں گے ، دس سال تک میثاق جمہوریت کے نام پر جس طرح لوٹا گیا ہے ، یہ قوم کے مجرم ہیں جس طرح کی کرپشن ہوئی ہے ، اس سے یہ ڈرے ہوئے ہیں، اپوزیشن کا مقصد صرف حکومت پر دباﺅ ڈالناہے تاکہ ہم بھی یہ کہیں کہ جمہوریت کی خاطر ہم مل کرچلیں گے اور این آر او کرلیتے ہیں۔ این آر او کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ جو کچھ اسمبلی میں ہورہاہے اور پہلے دن ہی مجھ کو تقریر کرنے نہیں دی گئی ، میرا جرم کیا تھا ؟ میں نے کیا غلطی کی تھی ؟ میں نے غلط کام کیا کیاہے؟یہ مجھ سے صرف یہ بات سنناچاہتے ہیں کہ جمہوریت کوبچانے کیلئے ہم ملکر چلیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کوپتہ ہے کہ حکومت اگر چاہے تو ہر قسم کا کام کرسکتی ہے کیونکہ حکومت کے پاس بڑی طاقت ہوتی ہے ، مجھے کوئی خوف نہیں ہے اور نہ مجھے کسی کا ڈر ہے ۔ اس وقت سپریم کورٹ اپنے طور پر کام کررہاہے اور فوج حکومت کے منشور کے ساتھ کھڑی ہے ۔ ہندوستان سے تعلقات کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ کوئی ضرورت نہیں کہ ہم جنگ کے عالم میں رہیں اور آپس میں تجارت نہ کرسکیں، کرتار پور میں کوئی گگلی والی بات نہیں ہے ، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بڑھنے سے غربت دور ہوگی ۔ یمن کے حوالے سے سوال پر وزیر اعظم نے کہاکہ یمن کی جنگ میں پہلے ہمیں فریق بننے کا کہا گیا تھا لیکن ہم تیار نہیں ہوئے ، اب ہم کہہ رہے ہیں کہ ہم وہ کردار ادا کرتے ہیں جو آپ کواکٹھا کرے ، ایران کے وزیر خارجہ نے مجھے کہا ہے کہ اگر آپ درمیان میں پڑتے ہیں تو ہم معاملہ حل کرنے کیلئے تیار ہیں اور یہ پیغام ہم نے سعودی عرب کوبھی پہنچا دیا ہے ، اس جنگ میں دوفریق ہیں سعودی عرب اور ایران اور ہم ان دونوں ممالک کو جانتے ہیں اور ہمارا کردار بھی یہی ہوناچاہئے ، ہم آئندہ کسی کی جنگ میں نہیں پڑیں گے ، وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے ٹرمپ کا خط آیاہے کہ افغانستان میں امن کیلئے پاکستان اپناکردار ادا کرے اور میرا موقف بھی یہ ہے کہ اور جب مجھے طالبان خان کہتے تھے تو میں اس وقت بھی یہی کہتاتھا کہ جب امن کیلئے اپناکردار ادا کرسکتے ہیں تو جنگ میں پڑ کرکیوں تباہی کروائیں؟ جنرل اسمبلی میں نہ جانے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ میں باہر کا دورہ تب کروںگا جب مجھے یہ پتہ ہو کہ میرے اس دورے سے پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا ؟ تین ممالک کا دورہ ہم نے اپنے خسارے کو پورا کرنے کیلئے کیا اور ملائشیا کا دورہ اس لئے کیا کہ سب سے بہترین سرمایہ کاری ہمیں ملائشیا سے آرہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ہمارے معاشی حالات ٹھیک ہونگے تو پھر میں باہر بھی جاﺅں گا ۔ ان کا کہناتھا کہ میں یوٹرن سے انکار نہیں کرتا یہ تو بڑی دانائی کی بات ہے ، یوٹرن کا مطلب یہ ہوتاہے کہ ہم مقصد پر پہنچنے کیلئے اپنی حکمت عملی بدلتے ہیں، جب تک میں جو پالیسیاں بنارہاہوںاور میرے اتحاد ی اس میں کوئی رکاوٹ نہیں بنتے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے اور میری پالیسی احتساب بلا امتیاز ہے ، میں نے کہا تھا کہ میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سے کبھی اتحاد نہیں کروں گا اگر میں ان سے اتحاد کرتا تو مجھے اپنے منی لانڈرنگ اور کرپشن کے خلاف کام سے پیچھے ہٹنا پڑنا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی کے معاملات پر سٹیبلشمنٹ سے مدد لینا پڑتی ہے ، جب بھی سکیورٹی کی بات ہوگی تو سٹیبلشمنٹ کا رول اہم ہوگا ، سیکورٹی کے معاملات میں ان کی رائے ضرور لی جاتی ہے اور ساری دنیا لیتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جنرل ضیاء، جنرل مشرف اور جنرل باجوہ کی سٹیبلشمنٹ میں فرق ہے ، جنرل باجوہ کی سٹیبلشمنٹ مکمل طور پر حکومت کے ساتھ کھڑ ی ہے ، ایک بھی فیصلہ نہیں ہے جو میں نے نہیں کیااور ایک بھی فیصلہ نہیں ہے کہ جس کے پیچھے فوج نہیں کھڑی ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے جنرل باجوہ کی جانب سے پوری یقین دہانی ہے کہ وہ لاپتہ افراد کے معاملے پر ہر قسم کی مدد کرناچاہتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل حل کرنے کیلئے دوہی طریقے ہیں ، ایک جنگ اور ایک مذاکرات ہیں ، د و ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کا کوئی عقلمند آدمی تصور نہیں کرسکتا ، یہ مسئلہ مذاکرات سے ہی حل ہوگا ۔ واجپائی نے مجھے کہا تھا کہ مشرف کے دور میں ہم مسئلہ کشمیر کے حل کے قریب پہنچ گئے تھے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس مسئلہ کاحل ہے ، ہندوستان میں الیکشن آرہے ہیں اور ان کا ایجنڈا اینٹی پاکستان ہے اور شاہ محمود قریشی کی گگلی کا مقصد یہی ہوگا کہ کرتارپور والے معاملے کے بعد اور میری امن کی خواہش کی تقاریر کے بعد ان کیلئے پاکستان کے خلاف انڈیا میں پروپیگنڈا کرنا مشکل ہوجائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی سیاسی دکان بند ہوگئی ہے ، اب وہ اپنی سیاسی دکان بچانے کیلئے جوبھی حکومت کے خلاف ہوگا اس کے ساتھ کھڑا ہوجائیگا، ان کو کے پی میں شکست ہوگئی ہے اور ان کوپتہ ہے کہ آگے کیا ہونیوالا ہے؟ ، ہم نے تحریک لبیک والوں کے ساتھ معاملات حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ، ہالینڈ میں گستاخانہ خاکے رکوائے ، او آئی سی میں مسئلے کولیکر گئے اور پہلی دفعہ یورپی یونین نے اس حوالے سے فیصلہ دیا ، ہم یہ ان کے دباﺅ پر نہیں بلکہ خود کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ جوبھی ریاست کے خلاف کام کرے گا ، مولانا فضل الرحمان اس کے ساتھ چلے جائیں گے ، کوئی یہ بات کہے کہ میںنبیﷺ کاسپاہی ہوں توساری قوم اس کے ساتھ کھڑ ی ہوجائے گی ، وہ کون ہے کہ جس کے دل میں نبی ﷺ کی محبت نہیں ہے؟نبیﷺ کے ساتھ محبت ہمارے ایمان کاحصہ ہے، لیکن اس کو ووٹ بینک کے حوالے استعمال کیا جاتاہے ۔سپریم کورٹ نے جوفیصلہ کیا تھا تو اس میں حکومت کا کیا لینادینا ، اگر حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہ کرے گے تو پھر حکومت کی کیارٹ رہے گی ؟ انہوں نے کہا کہ نیا صوبہ بنانے کا مقصد لوگوں کیلئے آسانی پیدا کرناہے ، صوبے کا سینٹر ملتان ہویا بہاولپور اس پر تمام سٹیک ہولڈر ز کو بٹھا کر بات کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب والے پیچھے جارہے ہیں ، ہم ان کو پہلے انتظامی سہولیات دے رہے ہیں، نیا صوبہ بنانے کے حوالے سے اس سوال پر کہ اس طرح تو مرکزی پنجاب میں آپ کی حکومت ختم ہوجائیگی تو وزیر اعظم نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ انتخابات قبل ازوقت ہوجائیں کیونکہ کپتان اپنی پالیسی کسی وقت بھی بدل سکتاہے ، عثمان بزدار پر بڑی تنقید کی گئی ہے لیکن عثمان بزدار بہت کامیا ب منتظم ثابت ہوگا ، یہ وسیم اکرم پلس نکلے گا ۔انہوں نے کہا کہ سوئٹز لینڈ سے ہمارا معاہدہ ہوگیا ہے اور ساری معلومات سامنے آجائیں گی اور پتہ چلے گا کہ ہمارا ملک تو بہت امیر تھا اور پیسہ واپس آجائے گا ، دنیا میں منی لانڈرنگ کا دائرہ کم ہوتا جارہاہے ۔ مشرف پر غداری کے حوالے سے سوال پر عمران خان نے کہاہے کہ ایشوزتو بہت زیادہ ہیں ، سادہ سی بات ہے کہ چھ ہزار ارب سے قرضہ تیس ہزار ارب تک چلا گیاہے ، کچھ تو ہوا ہوگا یہاں ، ادارے خسارے میں جارہے ہیں ، پہلے تو ان لوگوں کا احتساب کرنا ہوگا جنہوں نے اس ملک پر تیس ہزار روپے قرضہ چڑھایا ہے اور جوبھی قانون توڑتا ہے اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے ، گورنر ہاﺅس کی دیواریں ایک غلامی کی علامت تھیں ، ہم یہ کرنم چاہتے ہیں کہ مال روڈ پر لوگ جائیں گے تو وہاں جنگلہ لگا ہوگا اور خوبصورت پہاڑیاں اور باغات لگے ہوئے ہونگے تو ان کو پتہ چلے گا کہ یہ ہمارا پاکستان ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف آدھے لوگ بھوکے ہیں اور ایک طرف شاہانہ رہن سہن ہے ، یہ ساری علامتیں ختم ہونگی ، وزیر اعظم ہاﺅس میں بہت جلد یونیورسٹی بناﺅں گا ، خیبر پختو نخوا میں خواتین اور بچوں کیلئے پارک بنائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جس جس کی خواہش ہے کہ یہ حکومت نہ چلے وہ اس لئے ہے کہ جتنی دیر یہ حکومت چلے گی اس وقت تک تمام چوروں کی باری آتی رہے گی ، انہوں نے کہا کہ ہفتے دس دن کے بعد بتادوں گا کہ کابینہ میں کیا تبدیلی ہو گی ؟ انہوں نے کہا کہ جب حکومت بنی تو ہم نے ادائیگیاں کرنی تھیں اور ہمارے پاس پیسے ہی نہیں تھے ، ایک حل تو یہ تھا کہ سیدھے آئی ایم ایف کے پاس چلے جاتے لیکن ہم اس لئے آئی ایم ایف کے پاس نہیں گئے کہ آئی ایم ایف کی شرائط سے ملک میں غربت پھیلتی ، اس لئے ہماری کوشش تھی کہ جانا بھی پڑے تو انتہائی کم قرضے کیلئے ۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملکی بر آمدات بڑھنے اور ملک میں سرمایہ کار ی آنے سے عنقریب حالات بہتر ہوجائیں گے ۔