دمشق: شام میں اتحادی فوج کے فضائی حملے میں امریکی امدادی کارکن پیٹر کیسگ کو قتل کرنے والا داعش کا سینئر کمانڈر مارا گیا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق شام میں برسرپیکار امریکی اتحادی فوج کے ترجمان سیئن ریان نے داعش کمانڈر ابو العمریان کی ساتھیوں سمیت فضائی حملے میں ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے تاہم داعش نے کمانڈر کی ہلاکت کی تردید یا تصدیق نہیں کی۔امریکی اتحادی فوج نے رات گئے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر صحرا بدی یاہ کے علاقے میں داعش کے سینئر کمانڈر العمریان کی دیگر جنگجوؤں کے ہمراہ موجودگی کی اطلاعات پر فضائی حملہ کیا۔داعش کمانڈر امریکی شہری اور ریسکیو اہلکار کے قتل میں ملوث تھا۔ شام میں امدادی کام میں مصروف ایک تنظیم کے اہلکار پیٹر کیسگ کو داعش جنگجوؤں نے 2013ء میں اغواء کیا تھا اور نومبر 2014ء میں بیدردی سے قتل کرنے کی ویڈیو اپ لوڈ کی تھی۔ پیٹر کیسگ امریکی رینجرز میں بھی خدمات انجام دے چکا تھا۔کیسگ پیٹر نے اپنے قتل سے قبل والدین کو بھیجے گئے ویڈیو پیغام میں داعش جنگجوؤں کے رویے اور اسلامی تعلیمات سے آگاہی کے بعد بخوشی اسلام قبول کرنے کی اطلاع دی تھی، پیٹر نے اپنا نیا نام عبدالرحمان رکھا تھا۔بعد ازاں داعش کی جانب سے دو قیدیوں کے سر قلم کرنے کی ویڈیوز جاری ہوئیں جن میں نقاب پہنے شخص کو قیدیوں کا سر قلم کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ پہلی ویڈیو میں ایک شخص ایلن ہیننگ کا سر قلم کیا گیا تھا جب کہ دوسرے شخص کے بارے میں امریکا نے تصدیق کی کہ یہ امریکی شہری پیٹر کیسگ ہے۔واضح رہے کہ امریکی اتحادی فوج نے ایلن ہیننگ کا سر قلم کرنے والے داعش کمانڈر اور برطانوی شخص محمد عماوزی المعروف ’ جان جہادی‘ کو 2015ء میں رقہ میں کیے گئے ڈرون حملے میں مار دیا تھا۔