مانچسٹر: برطانوی پارلیمنٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انگلینڈ کے کسی وزیراعظم کو توہین پارلیمنٹ کا نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق یورپی یونین سے علیحدگی کے بارے میں 11دسمبر کو پارلیمنٹ میں بحث کا آغاز ہو رہا ہے،جبکہ وزیر اعظن تھریسامے پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے اراکین پارلیمنٹ کو مکمل لیگل ایڈوائس نہیں دی ،جس پر پارلیمنٹ کے ہونے والے اجلاس میں293 کے مقابلے میں 311 ممبران کی اکثریت سے ممبران اسمبلی کی قرارداد کا احترام نہ کرنے پر وزیر اعظم کو  توہین پارلیمنٹ کا نوٹس جاری کرنے کی حمایت کی ۔نوٹس جاری ہونے کے بعد حکومت نے کہاہے کہ وہ بریگزٹ کے بارے میں کے ایڈوائس شائع کرنے کے لیے تیار ہے۔اس سے قبل برطانوی حکومت نے اپوزیشن کے مطالبے پر بریگزٹ معاہدے کو منظر عام پر لانے سے مکمل انکار کر دیا تھا ،جس کی وجہ سے اٹارنی جنرل اور  دیگر وزراء پر پارلیمنٹ میں  پابندی لگا دی گئی تھی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ  برطانیہ بریگزٹ کے معاملے کی وجہ سے ان دنوں  برطانیہ سخت معاشی و سیاسی بحران کا شکار ہے جبکہ حکمران جماعت کے 80 سے زائد ارکین پارلیمنٹ نے اپنی پارٹی پالیسیوں سے کھلم کھلا اختلاف کر دیا ہے،اسی طرح 8 وزار نے بھی بریگزٹ معاملے کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا تھا ۔برطانوی پارلیمنٹ میں امیگریشن کے شیڈو وزیر محمد افضل خان نے روزنامہ ’’پاکستان ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیل نو ڈیل دونوں منظور نہیں اور نہ ہی ان ہاوس تبدیلی کی اجازت دی جائے گی ،ہم عدم اعتماد نہیں کریں گے ۔انہوں نے کہا   کہ8 سال میں دوسری مرتبہ برطانیہ میں مڈ ٹرم انتخابات کی راہ ہموار ہو رہی ہے ،حکمران جماعت کی پالیسیاں عوام دشمن ہیں ،برطانوی عوام کے مفادات کو بریگزٹ کے معاملے میں یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے ۔