راولپنڈی :  ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم ) کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس لائن کو کراس نہ کریں کہ جس کے بعد ریاست کو اپنی اتھارٹی استعمال کرنی پڑے ۔ اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے  ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے مذاکرات شروع کیے تو انہوں نے تین مطالبات ہمارے سامنے رکھے۔ قبائلی علاقوں میں چیک پوسٹوں میں کمی، مائنز کا صفایا اور لاپتا افراد کی بازیابی کے مطالبات رکھے گئے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا میں 15 سال تک جنگ لڑی گئی ہے اور جیسے جیسے حالات بہتر ہوئے افواج پاکستان نے چیک پوسٹوں میں کمی بھی کی اور مائنز بھی صاف کی جارہی ہیں ۔ 2016 میں مختلف قسم کی 469 چیک پوسٹس تھیں جو حالات بہتر ہونے کے بعد 331 رہ گئی ہیں۔ جب ہم یہ سمجھیں گے کہ اب سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوگئی ہے اور آج ایک بھی چیک پوسٹ کی ضرورت نہیں ہے تو ہم اس کو ختم کردیں گے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اس چیک پوسٹ میں جو جوان کھڑا ہے وہ اس لیے کھڑا ہے تاکہ وہاں کی آبادی کو کوئی خطرہ نہ ہو۔ انہوں نے پی ٹی ایم کے مائنز کے مطالبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاک فوج کے 43 یونٹس ایسے ہیں جو مختلف علاقوں سے مائنز کا صفایا کر رہے ہیں۔ اس علاقے میں جنگ لڑی گئی ہے اس لیے یہ سٹریٹجی کا حصہ تھیں لیکن اب حالات کی بہتری کے ساتھ ان کو صاف کیا جارہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پی ٹی ایم کے تیسرے مطالبے ’ لاپتا افراد کی بازیابی‘ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 2010-11 میں سات ہزار کے قریب لاپتا افراد کے کیسز سامنے آئے۔ اس حوالے سے کمیشن بھی بنا اور عدالت میں بھی کیسز چلے۔ اس حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر 2 بینچ سماعت کرتے ہیں 7 ہزار کیسز میں سے 4 ہزار سے زائد کیسز حل ہوچکے ہیں اور اس وقت 3 ہزار کے قریب کیسز پر کارروائی جاری ہے ۔ ان میں سے 2 ہزار کیسز کمیشن کے پاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 15 سال جنگ لڑی جس میں بہت سے دہشتگرد مارے گئے ۔ ٹی ٹی پی کی فورس افغانستان میں بیٹھی ہوئی ہے۔ کیسے یہ ثابت ہوسکتا ہے کہ لاپتا افراد ٹی ٹی پی کا حصہ نہیں ہیں، جہاں تک جذبات اور احساسات کا تعلق ہے تو کوئی بھی پاکستانی جو لاپتا ہے اس کا ہمیں بھی اتنا ہی افسوس ہے۔ جنگ کے بعد بہتری کیلئے جنگ کے نقصانات کو بھولنا پڑتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پی ٹی ایم کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی ایم کے مطالبات پر ان کے کہنے سے بھی پہلے حکومت اور افواج پاکستان کی جانب سے عمل کیا جارہا ہے لیکن اب پی ٹی ایم ان مطالبات سے ہٹ کر کیسے چلی۔ ہمیں پتا ہے کہ پی ٹی ایم کیسے چل رہی ہے جس کے بارے میں مناسب وقت پر بات کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں نے کہا کہ آپ نے پی ٹی ایم پر نرم ہاتھ رکھا لیکن ہم نے کہا کہ ان کے علاقے میں 15 سال جنگ ہوئی ہے اور انہوں نے بہت دہشتگردی کا سامنا کیا ہے ہمارے لوگ ہیں جو دکھی ہیں اور انہوں نے تشدد نہیں اپنایا اس لیے ان کے خلاف سخت رویہ اختیار نہیں کیا۔ میری ان سے درخواست ہوگی کہ آپ کے مطالبات آپ کے کہنے سے پہلے ہی پورے ہونا شروع ہوگئے تھےلیکن اب یہ جس طرف جارہے ہیں لگتا ہے کہ لائن کراس کر جائیں گے پھر ہمیں اپنی اتھارٹی استعمال کرنی پڑے، میری درخواست ہے کہ یہ اپنی لائن کراس نہ کریں ۔