ریلوے اراضی پر قبضے
تحریر:عبدالرؤف مان
خوش آ ئند بات ہے کہ وزیراعظم عمران خان محکمہ ریلوے اور خاص طور پر اس کی اراضی کے معاملات میں نمایاں دلچسپی لے رہے ہیں ،ممکن ہے کہ ایسا وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کی وجہ سے ہو،بہرحال جو بھی ہے ریلوے کے لیے خوش قسمتی کا موجب ہے ،دیکھا جائے تو ریل ایسا ادارہ ہے جو حقیقت میں چاروں صوبوں کے لیے ایک زنجیر کی حیثیت رکھتا ہے ،ریل کی پٹری چھوٹیبڑے شہروں اور صوبوں کو ملاتی ہوئی وطن عزیز کو ایک اکائی میں پرو دیتی ہے،ریل کی چلتا ہوا پہیہ عوام کی سفری سہولت کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت اور دفاع کی ضمانت بھی ہے،تاہم اس کے ساتھ ساتھ ریلوے ایسا بدقسمت محکمہ بھی ہے جس کی اراضی پر قبضہ مافیا کے علاوہ سرکاری اور ریاستی ادارے قابض ہیں ،ملک بھر میں پھیلی ہوئی اس کی اربوں روپے کی زرعی،رہائشی اور کمرشل اراضی سے اپنے پرائے سب مستفید ہورہے ہیں اور یہ قومی ادارہ سالانہ اربوں کے خسار ے سے دوچار ہے،اعداد شمار کے مطابق ریلوے کے پاس اس وقت مجموعی طور پر ایک لاکھ 67ہزار690ایکڑ ہے،اس میں سب سے زیادہ 90ہزار362ایکڑ اراضی صوبہ پنجاب میں ہے،دوسرے نمبر پر صوبہ سندھ ہے جہاں ریلوے کے پاس39ہزار428ایکڑ اراضی ہے،بلوچستان میں 28ہزار500ایکڑ اور سب سے کم9ہزار707ایکڑ صوبہ خیبر پختونخوا میں ہے،ریلوے کی اپنی رپورٹ کے مطابق کل ایک لاکھ 67ہزار690ایکڑ اراضی میں سے ایک لاکھ 26ہزار ایکڑ آپریشنل استعمال کے لیے ہے،اسی طرح 19ہزار ایکڑاراضی مستقبل کے توسیعی منصوبوں کے لیے مختص ہے،اعداوشمار کے مطابق ریلوے نے اپنی 12ہزار500ایکڑ زرعی،رہایشی اور کمرشل اراضی چھوٹی بڑی لیز پر دے رکھی ہے،ریلوے کی540ایکڑ اراضی پر ریگولرائزڈ کچی آبادیاں قائم ہیں2012ء4 کے آغاز میں سپریم کورٹ نے ریلوے اراضی پر قبضوں کا از خود نوٹس لیا،سپریم کورٹ نے ریلوے انتظامیہ کو حکم دیا کہ ملک گیر سروے کرکے ریلوے اراضی کی رپورٹ پیش کی جائے،جس پر ریلوے نے سروے کیا اور رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی ، رپورٹ میں بتایا گیا کہ ریلوے کی5290ایکڑ زرعی،رہایشی اور کمرشل اراضی پر غیرقانونی قبضہ ہے،رپورٹ میں تسلیم کیا گیا کہ 2568ایکڑ اراضی پرپرائیویٹ افراد کا قبضہ جب کہ پنجاب،سندھ،بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں1145ایکڑاراضی پر سرکاری محکمے قابض ہیں ،رپورٹ کے مطابق1588ایکڑاراضی ا?رمی،ایئرفورس،جانباز فورس،فرینٹرکور،ایف ڈبلیو او اور فرنٹیر کانسٹیبلری کے زیر تسلط ہے،ریلوے حکام تسلیم کرتے ہیں کہ گزشتہ 6سال سے جاری آپریشن کے باوجود مجموعی طور پر اب بھی ہزاروں ایکڑ ریلوے اراضی پر غیر قانونی قبضہ ہے جب کہ بعض باخبر حلقے یہ انکشاف بھی کرتے ہیں کہ ریلوے کی جو کل اراضی ریکارڈ میں موجود ہے اس میں وہ اراضی دانستہ یا غیر دانستہ شامل نہیں ہے جوکہ عرصہ دراز سے بند ریلوے سیکشنوں پر موجود ہے اس اراضی پر قبضہ ہوچکا ہے،کسی جگہ پر بااثر قبضہ مافیا نے ازخود اور کہیں پر ریلوے افسروں کی ملی بھگت سیاس اراضی پر قبضہ کررکھا ہے،ان بند اور متروک سیکشنوں میں ماڑی انڈس،کالا باغ،لکی مروت سیکشن بھی شامل ہے،یہ سیکشن 90ء4 کی دہائی میں ڈسمینٹل کردیاگیاتھا،یہاں کے ٹریک کو سکریپ بنا کر فروخت کردیا گیا،اس سیکشن پر موجود ریلوے اراضی ،عمارتوں پر قبضہ مافیا نے تسلط جما لیا،اسی طرح ایک اور متروک سیکشن صوبہ سندھ میں بتایا جاتاہے،سکرنڈ،تھارو شاہ اور محراب پورسیکشن جوکہ فیڈر لائن سیکشن کہلاتاتھا اس کو 30سال قبل بند کردیا گیاتھا،اس سیکشن کی ہزاروں ایکڑ ریلوے اراضی پر بااثر وڈیروں نے قبضہ کرلیا،وہاں موجود ریلوے لائن بتدریج چوری ہو رہی ہے جب کہ ریلوے انتظامیہ اور پولیس نے اپنی آنکھیں بند کررکھی ہیں،اب آتے ہیں ریلوے کی ہائی ویلیو کمرشل اراضی کی طرف جوکہ 500ایکڑ کے قریب بتائی جاتی ہے،حیر ت انگیز طور پر اس اراضی کی ویلیو کا اندازہ لگانے کے لیے کوئی پوٹینشل ورک اور آڈٹ نہیں کیا گیااور نہ ہی اس ارضی کی کمرشل ویلیوکا اندازہ لگانے کے لیے آج تک کسی کنسلٹنٹ سے رجوع کیاگیا،مجموعی طور پر کراچی میں ریلوے کی اربوں روپے کی کمرشل اراضی موجود ہے جہاں کالا پل کے قریب ریلوے کاصرف ایک پلاٹ ایک ارب 25کروڑ روپے کا بتایا جاتا ہے ،کہنے کو تو ریلوے نے اس حوالے سے آج سے 15سال قبل ریڈیمکو نام کی ایک کمپنی قائم کی لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ کمپنی ایک سفید ہاتھی میں تبدیل ہوچکی ہے،یہ کمپنی بدقسمتی سے کنڑیکٹ پر تعینات ایسے ریٹائرڈ افسروں کا مسکن بن چکی ہے،جن میں سے بیشتر سفارشی ہیں،اس کے مقابلے میں بھارت کی مثال لیں تووہاں بھی انڈین ریلوے نے رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کمپنی بنائی تھی جو کہ سالانہ اربوں روپے کما کردے رہی ہے،باخبر حلقوں کی یہ کہنا ہے کہ اگر ریلوے اپنی اراضی اور اثاثوں کی ایویلوایشن اور اس کاآڈٹ کرائے تو بے تحاشا بدعنوانی منظر عام پر آسکتی ہے،سینکڑوں لیز ایسی ہیں جو کہ زائد المیاد ہوچکی ہیں ،جنہوں نیبرسوں قبل اس کو لیز پر لیا اور لیز ختم ہوجانے کے بعد بھی اس پر قابض ہیں ،علاوہ ازیں اراضی کے بے تحاشا کیسز عدالتوں میں چل رہے ہیں،ضرورت اس امر کی ہے ریلوے اس اراضی بارے بڑے اقدامات اٹھائے،ریلوے لینڈ ڈائریکٹوریٹ کو فعال کرے،ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ کی پوسٹ کو اپ گریڈ کیا جائے،اسی طرح ہر ریلوے ڈویژن کی سطح پر شعبہ پراپرٹی اینڈ لینڈ کو بھی اپ گریڈ کیا جائیاس میں ریٹائرڈ تحصیلداروں اور پٹواریوں کو کنٹریکٹ پر بھرتی کیا جائے،شعبہ پراپرٹی اینڈ لینڈ کے افسران کو مجسٹریٹ کے اختیارات تخویض کیے جائیں تو موثر انداز میں ریلوے اراضی کے مسائل حل ہوسکتے ہیں،ریلوے کے پاس جو اراضی موجود ہے اس میں 5ہزار ایکڑ بنجر بھی ہے جہاں گرین پاکستان مہم کے سلسلہ میں محکمہ جنگلات کے تعاون سے شجرکاری کی جاسکتی ہے ،ریلوے اراضی کے تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں لیکن یہ سب کچھ ہمت،کمٹمنٹ ،دیانت داری اور نیک نیتی سے مشروط ہے۔