سری نگر: بھارتی قابض فوج نے جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں9کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا ہے ۔9 کشمیری نوجوانوں کی شہادت کے بعدپلوامہ ضلع میں صورت حال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے ، حکام نے قصبے میں اضافی فورسز اہلکار تعینات کردیے ہیں ، موبائل ، انٹرنٹ اور ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے ۔ تعلیمی ادارے بند ہو گئے ہیں۔ غیر اعلانیہ کرفیو پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔ جبکہ مقبوضہ کشمیر بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے ہیں ۔، تفصیلات کے مطابق جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میںہفتے کو بھارتی فوج ، سی آر پی ایف اور ایس او جی اہلکاروں نے کھارہ پورہ، سرنو گائوں کو محاصرے میں لے لیا ۔ دوران محاصرہ بھاتی فوج نے 3کشمیری نوجوانوں کو گولی مار کرشہید کر دیا،بھارتی فوج کے ہاتھوں 3کشمیری نوجوانوں کی شہادت کی اطلاع پر شہری مشتعل ہو گئے اور غیر معمولی احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے بھارتی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں یکے بعد دیگرے6 کشمیری نوجوان شہید ہو گئے۔ ان شہدا میں عامر احمد پال،عابد حسین لون، شہباز علی، سہیل احمد، لیاقت ، اور مرتضی احمد شامل ہیں۔عابد حسین لون ساکنہ کریم آباد نامی نوجوان فورسز کارروائی کے دوران زخمی ہوگیا جس کو ضلع اسپتال پلوامہ منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔ زخمیوں میں عامر احمد پال ساکنہ اشمندر پلوامہ نامی ایک نوجوان بھی شامل تھا جس کو ضلع اسپتال پلوامہ منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔4 مزید شہری بھی فورسز کارروائی میں زخمی ہونے کے بعد ہسپتال میں دم ٹوڑ گئے ۔ 9 کشمیریوں کی شہادت کے بعد وادی میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، مظاہرین کو روکنے کے لیے قابض فوج کی جانب سے آنسو گیس اور پیلٹس کا استعمال کیا جارہا ہے۔ بھارتی فوجی ترجمان نے دعوی کیا ہے کہ مارے جانے والوں میں حزب المجاہدین کے کمانڈر ظہور ٹھاکر سمیت3 عسکریت پسند بھی شامل ہیں۔ ایک فوجی اہلکار بھی مارا گیا ہے