صحافت کو چوپٹ کرنے کا سہرا
تحریر : زین العابدین عابد
مختلف میڈیا ہاﺅسز میں صحافیوں کو دھڑا دھڑ فارغ کیا جا رہا ہے ,ماضی میں سیکرٹ فنڈ اور اشتہارات کی مد میں نواز شریف جیسے کرپٹ حکمران اربوں روپے میڈیا مالکان کو بانٹتے رہے ہیں جو موجودہ حکومت نے یہ سلسلہ بند کر کے احسن اقدام کیا ہےموجودہ حکومت کو چاہئے کہ غیر متنازعہ غیر تنظیمی اور جینوئین ورکنگ جرنلسٹس کی مدد سے ورکنگ جرنلسٹس کی فہرست تیار کرکے فی الفور انہیں ہنگامی بنیادوں پر قومی خزانہ سے مناسب ماہانہ گزارا الاﺅنس دینے کا اقدام اٹھایا جائے مشکلات کی گھڑی میں حکومت کو صحافیوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیئے، سب سے زیادہ ڈیوٹی کرنے والے سب کی خبر دینے والے اپنی خبر نہیں رکھتے،
وزرات اطلاعات ملک بھر میں لاکھوں جعلی ڈمی اخبارات کے ڈیکلریشن فوری کینسل کرے، جو اخبار جینوئین صحافی نہیں چلا رہا یا طے شدہ قواعد وضوابط کے تحت مارکیٹ میں موجود نہیں یا ہفتہ میں چند روز شائع کرکے ناجائز اشتہارات وصولی اور ذاتی دھندوں کو غیر قانونی دھونس جماکر دفاع کرنے اور ورکرز کا استحصال کر رہا ہے ایسے ہر ڈمی اخبار کا ڈیکلریشن فوری کینسل کر دیا
جیو ٹی وی کے مالک شکیل الرحمن نے سپریم کورٹ کے سامنے صحافیوں کے سامنے واشگاف الفاظ میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا ” ہم صحافت نہیں بزنس کرتے ہیں… اس ملک کی صحافت کو چوپٹ کرنے کا سہراموصوف کے سر ہی سجا ہوا ہے۔