سری نگر:  مقبوضہ کشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیدعلی گیلانی نے وزیراعظم عمران خان کے اس بیان کوسراہاہے جس میں انہوں نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کامعاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھانے کاعزم ظاہر کیاتھا۔سیدعلی گیلانی نے سرینگرمیں ایک بیان میں کہاکہ پاکستان کو تنازع کشمیر کے بنیادی فریق ہونے کے ناطے مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کے قتل عام کاسلسلہ رکوانے کے لئے مزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کشمیر میں بھارتی بربریت کی روک تھام کے لئے اسلامی تعاون تنظیم کاہنگامی اجلاس طلب کرنے پرزوردیا۔ ادھرکل جماعتی حریت کانفرنس  گ کے  چیرمین  سید علی گیلانی  کو آج مشترکہ مزاحمتی پروگرام کے تحت بادامی باغ چلو مارچ میں شرکت کرنے سے پولیس نے روک لیا اور گھر کے مین گیٹ کو ہی سیل کرکے انہیں باہر آنے کی اجازت نہیں دی، جبکہ پولیس نے حریت راہنماؤں بلال احمد صدیقی، محمد یوسف نقاش، محمد یٰسین عطائی، محمد اشرف لایا، سید امتیاز حیدر سمیت سینکڑوں افراد کو گھروں اور تھانوں میں نظربندکردیا۔ اس موقع پر حریت چیرمین  سید علی گیلانی  نے اخبارات کے نام جاری اپنے پیغام میں کہا کہ آج ہمارے پرامن پروگرام کا مقصد بھارت کے فوجی سربراہ تک یہ پیغام پہنچانا تھا کہ آپ پچھلے 71سال سے روز ہمارے جوانوں کے سروں کی فصل کاٹ رہے ہیں، ہر دن ہماری جائیدادوں کو تلف کررہے ہیں،ہماری خواتین کی عزتوں اور عصمتوں کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں، ہمارے بچوں کو گرفتار کرنے کے بعد لاپتہ کررہے ہیں، ہمارے نوجوانوں کو سالہاسال تک جیلوں میں غیر قانونی طور نظربند کررہے ہیں، ہمارے نوجوانوں اور ماں کی گود میں کھیل رہے ننے بچوں کو پیلٹ کے ذریعے بینائی سے محروم کررہے ہیں، اس سے بہتر ہے کہ آپ ہمیں اجتماعی طور صفحہ ہستی سے مٹادیں، کیونکہ بھارت کو یہاں کے انسانوں کے جینے اور مرنے کی کوئی پرواہ نہیں ان کو تو یہاں کی زمین چاہیے ، کیونکہ جب تک یہاں ایک بھی انسان زندہ ہے وہ کبھی بھی بھارت کے جبری اور فوجی تسلط کو قبول نہیں کرے گا۔ پلوامہ قتل عام کو عظیم سانحہ قرار دیتے ہوئے حریت راہنما نے کہا کہ یہ واقعہ قتل غارت گری کے آج تک کے سینکڑوں سانحات جن میں گاؤکدل، علمگری بازار، ہندواڑہ، زکورہ، کپواڑہ، حول، خانیار، سوپور، بارہ مولہ، لالچوک، ٹینگہ پورہ، کشتواڑ، چھٹی سنگھ پورہ، براکپورہ، وندہامہ، مہجورنگر،نادی مرغ وغیرہ شامل ہیں میں ایک اور اضافہ ہے جس کے تحت بھارت کی قابض افواج نے نہتے عام شہروں پر اپنے بندوقوں کے دھانے کھول کرکے انسانیت کو شرمسار کر دیا ۔ انہوں نے پلوامہ میں درجن بھر زندگیوں کے چراغ گُل کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آج تک بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں ہم نے تقریباً ساڑے چھ لاکھ سرفروشوں کے لہو کا خراج پیش کیا ہے، بھارتی حکمرانوں کو اور کتنا خون چاہیے جس سے ان کی پیاس بُجھ جائے؟ انہوں نے ایسے انسانوں کو انسانیت کا سب سے بڑا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب انسان اپنی اصلی حیثیت اور خصلت کھو دیتا ہے تو وہ خونخوار جنگلی جانوروں سے بھی بدتر حوانیت پر اُتر آتا ہے۔ وہ اپنے ہی جنس کے خون سے کھلواڑ کرکے انسانیت کے اعلیٰ مقام سے گِر کر پستیوں اور نچلے پن کی سب سے نچلی سطح پر آجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی زندگیوں سے یہ وحشیانہ اور سفاکانہ کھلواڑ پچھلے 71سال سے جاری ہے اور اس کی تمام تر ذمہ داری بھارتی حکمرانوں، ان کی بے لگام فوج اور اُن کے مقامی گماشتوں پر عائد ہوتی ہے، جن کی ملی بھگت سے عام اور بے گناہ کشمیریوں کا خون پانی سے بھی سستا ہوگیا ہے۔ اس خونِ ناحق کے لیے ذمہ دار لوگوں کی نہ کوئی باز پرس ہوتی ہے اور نہ ہی کسی کو جوابدہی کے مقام پر لاکھڑا کیا جاتا ہے۔ گیلانی صاحب نے جموں کشمیر میں بھارت کی افواج کی جانب سے قتل وغارت گری کے واقعات پر پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے اس مسئلے کو اقوامِ متحدہ میں اٹھانے  کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم مظلوموں کو ایسے بیانات سے ایک نیا حوصلہ اور جذبہ ملتا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ آپ ہمارے زخموں پر مرہم لگانے کے لیے کراہتی انسانیت کے ترجمان بن کر پوری دنیا کو جموں کشمیر میں ہورہے مظالم سے آگاہ کریں گے۔ حریت راہنما نے بھارت اور پورے عالم میں ان باضمیر اور انسان دوست افراد کو بھی شکریہ ادا کیا جنوں نے خالص انسانی ہمدردی کے ناطے اس خونِ ناحق پر اپنے شدید غم وغصے کا اظہار کیا۔انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا ایک اہم اور بنیادی فریق ہے اور اس حوالے سے ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مظلوم کشمیریوں پر ہورہے مظالم کے حوالے سے بین الاقوامی رائے عامہ کو متحرک کرنے اور مسئلہ کشمیر کو اس کے تاریخی پسِ منظر کی روشنی میں حل کرانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے اپنی اپیل دہراتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کی موجودہ سنگین اور ناگفتہ بہہ صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے اپنے دوست مسلم ممالک کی مدد سے OICکا اجلاس طلب کریں جس میں جموں کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے خلاف سنگین ردعمل سامنے آنا چاہیے اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ بھارت کو انتباہ دیا جائے کہ تمام مسلم ممالک ان سے اپنے سفارتی روابط تب تک منقطع کریں جب تک نہ بھارت جموں کشمیر میں جاری اپنی ریاستی دہشت گردی کو بند نہ کرے اور یہاں کے عوام کو اپنا پیدائشی اور بنیادی حق واگزار کرے جس کا اس نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر وعدہ کیا ہے۔