سری نگر: مقبوضہ کشمیر کی سابق کٹھ پتلی وزیر اعلی محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور مجاہدین کو اعتماد میں لیے بغیر حل نہیں ہوسکتا کشمیری آزادی مانگتے ہیں اور راستے کھول کر انہیں آزادی دی جانی چاہیے کشمیر کو سی پیک کا حصہ بنایا جائے۔غیر ملکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق کٹھ پتلی وزیر اعلی مقبوضہ کشمیر محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگر کشمیر مسئلہ نہیں ہے تو پھر ہماری لاکھوں کی تعداد میں فوج وہاں کیا کر رہی ہے پاکستان اور مجاہدین ہمارے لیے مسئلہ ہیں لیکن ہمیں انہیں مسئلے کے حل کا حصہ بنانا ہوگا بھارت کی پاکستان کے ساتھ دشمنی کا سب سے زیادہ خمیازہ کشمیریوں کو بھگتنا پڑتا ہے، جو کشمیر کے مسئلے کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اگر کشمیر میں امن بحال کرنا ہے تو پاکستان کو مذاکرات کا حصہ بنانا ہوگا،کشمیر کے معاملے پر سوئی اٹکی ہوئی ہے اور معاملات اسی صورت آگے چلیںگے جب آپ راستے کھولیں گے، کشمیر کو سی پیک کا حصہ بنایا جائے کشمیری آزادی مانگتے ہیں اور انہیں آزادی دی جائے چین کے ساتھ بھی راستے کھولے جائیں اور تمام سارک ممالک کا ہیڈ کوارٹر بنایا جائے کشمیر میں سارک ممالک کے ہیڈ کوارٹرز اور بینکس ہونے چاہئیں،مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے واجپائی کی کوششوں کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ واجپائی اور مودی میں زمین اور آسمان کا فرق ہے جب واجپائی نے کچھ کرنا ہوتا تھا تو وہ انتخابات کا انتظار نہیں کرتے تھے جبکہ مودی ہمیشہ انتخابات کے بارے میں سوچتے ہیں واجپائی کے علاوہ کسی نے بھی کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے نہیں سوچا وہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے انتہائی قریب پہنچ چکے تھے لیکن 2004 کا الیکشن ہار گئے جس کے بعد اس مسئلے پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی،محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیر میں مسئلہ مجاہدین نہیں بلکہ ان کا آزادی کا نظریہ ہے اگر آپ ایک مجاہد کو شہید کرتے ہیں تو اس کے مقابلے میں 8 اور نوجوان ہتھیار اٹھالیتے ہیں برہان وانی کو جب شہید کیا گیا تو اس کے بعد 100 سے زائد لوگوں نے اپنی جانیں دیں مجاہدین کے جنازوں میں شریک ہونے والے اکثر لوگ تو انہیں جانتے بھی نہیں ہیں لیکن وہ اس نظریے کے ساتھ ہیں جن پر لوگ جان دیتے ہیں اگر بھارت مجاہدین کو شکست دینا چاہتا ہے تو اس سوچ کو شکست دینا ہوگی جو انہیں اسلحہ اٹھانے پر مجبور کرتی ہے، اور یہ صرف اسی طور ممکن ہے جب آپ انہیں اس کے مقابلے میں بہتر نظریہ دیں۔