تحریر ۔  حسنین،غضنفر،رابعہ،کومل
سراپارحمت ،سرورکونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبین اور اللہ تعالی کے محبوب ہیں۔آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رہنمائی کی بدولت عرب کے بدو دنیا کے حکمران بن گئے۔مشرق و مغرب میں اسلام کا ہلا لی پرچم لہرانے لگا۔ قیصروکسریٰ کے پرچم سرنگوں ہوگئے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیادت کا اصل مقصد دنیا کو اسلام کا پیغام پہنچانا تھا اور اس سلسلے میں آپ کے طرزِ قیادت نے اہم کردار ادا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بدولت دنیا میں 1.2 ارب لوگ مسلمان ہو چکے ہیں ۔ پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت عملی دیگر رہنماؤں کے مقابلے میں منفرد تھی۔محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زندگی کے ہر میدان میں صحابہ کرام کی رہنمائی کی۔ تجارت کے میدان میں عملی طور پر دیانت و امانت کی اعلیٰ مثالیں قائم کیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تربیت یافتہ مسلمانوں کے تجارتی اصولوں کی بدولت انڈونشیا اور ملا ئشیا کے لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خانہ کعبہ میں حجرا سود نصب کرنے کے جھگڑے کو اس طرح حل کیا کہ سب سرداران قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کو تسلیم کیا۔یہ سب کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رہنمائی کا نتیجہ تھا۔جنگ کا میدان ہو یا تجارت کے معاملا ت، غیر مسلموں سے معاملات ہوں، ہمیں ہر جگہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے مثال لیڈر شپ کار فرما نظر آتی ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے دنیا تباہی کے کنارے پر تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کو سلامتی کا پیغام دیا اور یوں بنی نوع انسان امن و امان سے بہرہ ور ہونے لگی۔ یہی وجہ ہے کہ آج جارج برنارڈ شا یہ کہنے پر مجبور ہے کہ آئندہ دور اسلام کا دور ہوگا۔
گاندھی اور نہرو جیسے ہندو لیڈر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کے قا ئل تھے۔ چین کا راہنما ”ماؤذے تنگ” قرآن پاک سے رہنمائی لیتا رہا۔ مائیکل ہارٹ نے اپنی کتاب‘‘ سو عظیم شخصیات’’میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام پہلے نمبر پر لکھا ۔ اپنے اعمال (سنت) کے ذریعے اسلام کے پیغام کو دنیا تک پہنچایا اور اسلام کے بنیادی اصولوں پر زور دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غیر معمولی اقدار موجودہ تحقیق کا موضوع ہیں اور کاروباری علما جو کامیاب ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان اقدار کو اپنی کامیابی کا راز مانتے ہیں ۔ لوگوں کے درمیان اعلی کردار کا احساس اجاگر کرنا اور رنگ، نسل اور قومیت کی حدود سے باہر نکالنا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لیڈرشپ کے اہم مقاصد میں سے تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق اسلام کا پیغام صرف ساتویں صدی کے عربوں کے لئے نہیں تھا بلکہ تمام انسانیت کے لیے ہے اور قیامت تک قائم رہے گا ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم اورطرز قیادت اسلام کے پھیلانے کی اصل وجہ ہے۔ جنگ کے دوران ایک رہنما کے طور پر یا عام دنوں میں ایک رہنما کے طور پر، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسلام کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے کے مقصد میں کامیاب ہوئے۔ اپنے ماحول اور حالات سے آگاہ رہنا بھی ایک سیاسی رہنما کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔
برنز (1978 ء) کے مطابق ایک لیڈر کی بنیادی اقدار آزادی، انصاف، مساوات ہیں یہ کسی بھی لیڈر میں ہو سکتی ہیں، ایک لیڈر کو اعلی لیڈر بننے کے لیے معافی، نرمی، شفقت، شائستگی اور سچائی جیسے غیر معمولی اقدار کو اپنی شخصیت میں ڈھالنا پڑتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنیادی طور پر اور غیر معمولی اقدار کی طور پر بھی انسانیت کی تاریخ میں سب سے منفرد اور اعلی رہنما ہیں۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دین و دنیا کے ہر معاملے میں رہنمائی کی اور اپنے عمل سے ثابت کیا کہ جنگ ہو یا امن، نباتات کا میدان ہو یا عائلی زندگی ہو، عدالت ہو یا تعلیم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قائم کردہ اصو ل دنیا کی قیامت تک رہنمائی کرتے رہیں گے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رویہ صحابہ کے ساتھ کامل تھا اور اپنے دشمنوں کے ساتھ منصفانہ تھا
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کو حکمرانی کا صحیح طریقہ سکھایا۔ اگر اس کرہ ارض کو امن و سکون کا جذ یرہ بنا نا ہے، تو آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رہنمائی میں قائم کردہ اصو لوں پر عمل کرنا ہوگا اور یوں ایک دفعہ پھر وہی دور لوٹ آئے گا جب کسی پر ظلم نہ ہو گا اور سب لوگ امن سے زندگی بسر کریں گے۔ آمین
گردش سیر فلک چشم تمنا لے گی
ایک پلٹا ابھی اور یہ دنیا لے گی