ایڈنبرا:  بی بی سی پر ان دنوں ’مسز ولسن ‘ نامی ڈرامہ نشر کیا جا رہا ہے جس میں الیگزینڈر ولسن نامی ایک جاسوس کی زندگی دکھائی گئی ہے کہ کس طرح اس نے اپنے بیوی بچوں سے بھی اپنی شناخت چھپائے رکھی۔ اس ڈرامے کے آن ایئرہونے پر ایک خاتون نے بھی اپنی عقل کو دنگ کر دینے والی کہانی دنیا کے ساتھ شیئر کی ہے جو ایک جاسوس کی بیوی تھی۔ سکاٹ لینڈ کے دارالحکومت ایڈنبرا کی اس 53سالہ میری ٹرنر تھامسن نامی خاتون نے امریکی شہری ویلیم ایلن جارڈن سے شادی کر رکھی تھی۔ ان کے دو بچے بھی تھے اور وہ سمجھتی تھی کہ اس کی ازدواجی زندگی بہت خوشگوار چل رہی ہے لیکن پھر ایک روز اس پر یہ قیامت خیز انکشاف ہوا کہ اس کے شوہر کی تین اور بیویاں بھی ہیں اور صرف یہی تین نہیں بلکہ وہ اس سے قبل بھی 2عورتوں کے ساتھ شادی کرکے انہیں طلاق دے چکا ہے۔ مجموعی طور پر اس شخص نے 6عورتوں کے ساتھ شادی کی جن سے اس کے 13بچے تھے۔میری ٹرنر کا کہنا ہے کہ ”میری کہانی ’مسز ولسن‘ ڈرامے کی کہانی سے بالکل ملتی جلتی ہے۔ میں پانچ سال قبل ویلیم سے ملی اور ہمیں ایک دوسرے سے محبت ہو گئی۔ ایک ہفتے بعد ہی اس نے مجھے شادی کی پیشکش کی تاہم میں نے انکار کر دیا لیکن پھر دو ماہ بعد ہم نے شادی کر لی۔شادی کے ایک ماہ بعد ہی میں حاملہ ہو گئی جو کہ میرے لیے بہت حیران کن تھا کیونکہ ویلیم نے مجھے بتایا تھا کہ وہ بانجھ ہے۔ وہ کئی کئی دن گھر نہیں آتا تھا اور اکثر تو مہینوں گزر جاتے۔ میرے پوچھنے پر وہ اپنے کسی مشن کا بہانہ بنا دیتا۔مجھے اس کی دوسری بیویوں کے متعلق 2006ءمیں معلوم ہوا جب اس کی ایک اور بیوی مسز جورڈن نے مجھ سے فون پر رابطہ کیا۔ اس نے بتایا کہ ویلیم کو ایک سے زائد شادیاں کرنے کے جرم میں جیل ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس پر غیرقانونی سٹین گن رکھنے اور لوگوں کو دھوکا دینے کے الزامات بھی ثابت ہوئے تھے۔ اسے برطانیہ میں ہی 5سال قید کی سزا ہوئی تھی تاہم اڑھائی سال بعد اسے رہا کرکے ملک بدر کر دیا گیا اور وہ امریکہ چلا گیا۔ تب سے میرا اس کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے۔“