سری نگر: مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کے استعفی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں بھارت نے گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔مقامی میڈیا کے مطابق محبوبہ مفتی نے وزارت اعلیٰ کے عہدے سے اپنا استعفیٰ گورنر کو بھجوا دیا ہے، جس کے بعد بھارتی صدر نے مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج کی منظوری دی ہے۔گزشتہ روز سری نگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے استعفیٰ دیتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ مسئلہ کشمیر صرف مذاکرات سے ہی حل ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی دشمن کا علاقہ نہیں اس لیے یہاں طاقت سے نہیں بلکہ مذاکرات سے کام لینا ہوگا۔محبوبہ مفتی نے اعتراف کیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان اور کشمیریوں سے بھی بات ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے لوگوں کی خدمت کرنے کے لیے ہاتھ ملایا تھا تاہم اب احساس ہوتا ہے کہ ہم ساتھ نہیں چل سکتے۔بھارتی میڈیا کے مطابق 2014 سے قائم حکومتی اتحاد سے علیحدگی کی وجہ مقبوضہ کشمیر میں حکومت کرنے والی پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی اور بی جے پی میں ہونے والے اختلافات تھے۔ جس کے بعد محبوبہ مفتی نے استعفیٰ دیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں اتحاد ختم کرنے کا فیصلہ بی جے پی کے صدر امیت شاہ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا تھا۔ اجلاس میں کابینہ کے وزرا اور کشمیر میں تعینات اعلیٰ افسران نے شرکت کی تھی۔ ملاقات میں وادی کی سیاسی صورت حال پر بات کی گئی۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی پامالیوں کے تناظر میں سیاسی کشیدگی کسی نئے بحران ک پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔