مدارس کے اساتذہ کی قلیل اجرتیں

تحریر: زین العابدین

مدارس میں پڑھانے والے اساتذہ کے کام کی نوعیت کا اندازہ لگایا جائے تو سکول و کالج کے اساتذہ سے زیادہ وقت دیتے ہیں کیونکہ مدارس کے اساتذہ کی اکثریت مدارس میں ہی قیام پذیر ہوتی ہے جو 24گھنٹے کے ملازم سمجھے جاتے ہیں۔چند ایک مدارس کے علاوہ اکثر مدارس کے اساتذہ کو بہت کم تنخواہ دی جاتی ہے ، بلکہ مدارس میں تنخواہ کی بجائے وظیفہ کی اصطلاح رائج ہے جس کا مطلب اکثر یہ لیا جاتا ہے کہ اصل اجر تو تمہیں اللہ تعالیٰ عطا فرمائیں گے البتہ نظام زندگی چلانے کے لیے کچھ اعزازیہ مقرر کردیا جاتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ مدارس کے اساتذہ کرام کو مہتمم حضرات کی طرف سے اس قدر کم وظیفہ دیا جاتا ہے کہ جس سے وہ زندہ رہ سکیں۔

ہر سال وفاق المدارس اور دیگر وفاق سے ہزاروں طلباء فارغ التحصیل ہوتے ہیں جن میں سے صرف چند ایک ہی اپنی قابلیت کی بنا پر مدارس میں تدریس کے لیے منتخب ہوتے ہیں،جن کی معاشی ضروریات کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ نئے مدرس کی تعیناتی کے وقت مدارس کے مہتممین کا رویہ کچھ اس طرح کا ہوتا ہے کہ ”ہمیں مدارس کی ضرورت نہیں ہے اگر آپ آ ہی گئے ہیں تو آپ کو رکھ لیتے ہیں لیکن یاد رہے کہ مدرسہ کے مالی حالات فی الحال ٹھیک نہیں ہیں،جب حالات قدرے بہتر ہوں گے تو آپ کا مناسب وظیفہ مقرر کر دیا جائے گا”دوسری طرف مہتمم حضرات اور ان کے بچوں کی شاہانہ زندگی سے کسی طور پر یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ مدرسہ کے مالی حالات خراب ہیں، اکثر مدارس میں سالہا سال سے تعمیر و توسیع کا سلسلہ چلتا رہتا ہے جس پر بلاشبہ کروڑوں روپے خرچ اٹھتا ہے’ اگر مدرسہ کے مالی حالات واقعی خراب ہیں تو اس کا تقاضا یہ تھا کہ تعمیر و ترقی کا کام بھی روک دیا جاتا لیکن ایسا نہیں ہوتا کیونکہ مدرسہ کی تعمیر و ترقی اور مدرسہ کی تمام پراپرٹی کو مہتمم حضرات اپنی جاگیر سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قابل، باصلاحیت اور قدیم مدرسین کے ہوتے ہوئے بھی مہتمم حضرات اپنے بچوں کو جانشین بناتے ہیں’ یہ موروثی سلسلہ طویل عرصے سے چلتا آ رہا ہے’ مدرسین کے لیے اس موضوع پر بات کرنا شجر ممنوعہ کے مترادف ہے، اگر کسی مدرس نے ہمت کر کے اس موضوع پر بات کر لی تو اسے بدترین گستاخ تصور کرتے ہوئے اور مدرسہ کے انتظام و انصرام میں بے جا مداخلت کا مرتکب سمجھتے ہوئے مدرسہ سے نکال دیا جاتا ہے۔ کیونکہ مدرسہ کے معاملات کو سرانجام دینا اور فیصلہ سازی کا اختیار صرف مہتمم صاحب کا ہی حق ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق مختلف مدارس کے مدرسین سے سوال پوچھا گیا کہ آپ اپنے بچوں کا مستقبل دینی مدارس میں دیکھتے ہیں یا عصری تعلیم گاہوں میں؟ 99فیصد مدرسین کا جواب تھا کہ وہ اپنے بچوں کے لیے عصری تعلیم گاہیں پسند کرتے ہیں تاکہ جو مشکلات انہوں نے برداشت کی ہیں ان کے بچے ان تکالیف سے محفوظ رہیں۔

کہنے کی حد تک ہر مسلک کے مدارس کا اپنا اپنا وفاق ہے ۔ ان پانچ وفاقوں کا ایک متحدہ پلیٹ فارم تنظیمات المدارس بھی ہے’ جس میں مدارس میں پڑھنے والے بچوں کی تعلیم سے لے کر دیگر ضروریات کا خیال رکھنے کے لیے لائحہ عمل طے کیا جاتا ہے۔ لیکن مدارس میں پڑھانے والے اساتذہ کی تنخواہوں بارے وفاق المدارس کا کوئی ضابطہ یا قانون نہیں ہے کہ جس کے تحت مدارس کے اساتذہ کی کم ازکم تنخواہ کا اعلان کر دیا جائے کہ اس سے کم اجرت پر اگر کسی مدرسے نے استاد کی خدمات لیں تو ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اگر آج تک مدارس کے وفاق اساتذہ کی تنخواہوں سے متعلق کوئی متفقہ ضابطہ یا قانون مرتب نہیں کر سکے تو اس کی بنیادی وجہ بھی مہتممین حضرات کا موروثی رویہ ہے کیونکہ وفاق المدارس میں بھی اکثریت مہتممین حضرات کی ہے وہ کیونکر چاہیں گے کہ وہ اپنے لیے از خود مشکل کا انتخاب کریں۔
مدرسین کو اپنے جال میں پھانسنے کا مہتممین کا ایک طریقہ یہ ہوتا ہے کہ روئے زمین پر جتنے لوگ سانس لے رہے ہیں ان سب میں سے اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی خدمت کے لیے تمہیں منتخب کیا ہے۔ اس سے یہ تاثر دینا مقصود ہوتا ہے کہ اجرت کا سوال کرکے اپنے اعمال کو ضائع مت کرو۔ کم عمر نوجوان مدرسین چونکہ مہتممین کے اس داؤ سے بالکل واقف نہیں ہوتے اس لیے ان کی بات پر سر تسلیم خم کر دیتے ہیں’ مہتممین ایک طرف نئے مدرسین کو یہ درس دیتے ہیں کہ مدارس اسلام کے قلعے ہیں ، حفاظت دین کے مراکزہیں تو دوسری طرف ان کی شاہانہ زندگی میں ان کے قول و فعل کا تضاد نظر آتاہے،کیونکہ حفاظت دین کا درس صرف مدرسین کے لیے ہوتا ہے جبکہ مہتمم اور ان کے بچوں کے لئے حفاظت دین کے لئے بھاری تنخواہ بھی ضروری ہے ۔

ستم بالائے ستم تو یہ کہ اگر کوئی اس موضوع پر بات کرنے کی جرات کرے یا اس موضوع پر کچھ لکھنے کی جسارت کرے تو اسے اسلام کے خلاف تصور کیا جاتاہے اور مہتممین ایک پلیٹ فارم پہ جمع ہو کر اسلام کو در پیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے میدان میں کود پڑتے ہیں منطق اور فلسفہ انہوں نے پڑھ رکھا ہوتا ہے اس لئے ایسے ایسے دلائل دیتے ہیں کہ اعتراض کرنے والے کو منہ کی کھانی پڑتی ہے یوں ان کی اجارہ داری برقرار رہتی ہے ۔