اسلام آباد :  وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کہتے ہیں کہ حکومت میرٹ پرکام کررہی ہے اور کسی کونشانہ نہیں بنایا جارہا، جن لوگوں کے نام ای سی ایل میں ڈالے گئے ان میں سے کچھ پہلے ہی باہر ہیں، پیپلز پارٹی کو کیس پر اعتراض ہے تو عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں۔معاون خصوصی وزیراعظم شہزاد اکبر نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے حکم پر جے آئی ٹی بنائی گئی۔ وفاقی حکومت نے جے آئی ٹی کے ساتھ مکمل تعاون کیا لیکن سندھ حکومت کاجے آئی ٹی کے ساتھ تعاون سب کے سامنے ہے۔ پیپلزپارٹی کیس کو سیاسی بنانے کے بجائے عدالت میں قانونی جواب دے۔ پیپلز پارٹی کو کیس پر اعتراض ہے تو عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں۔بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا کہ حکومت میرٹ پرکام کررہی ہے اور کسی کونشانہ نہیں بنایا جارہا ۔ بابر اعوان کیخلاف جب ریفرنس دائرہوا تو وہ عہدے سے مستعفی ہوگئے۔سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع ہونے کے بعد اعظم سواتی نے بھی خود ہی استعفیٰ دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تمام ادارے آزادہیں، کسی کو گرفتار کرنا اداروں کا کام ہے۔ جے آئی ٹی کے بعد ہم پر بہت بڑی ذمہ داری ہے، جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد کارروائی ناگزیر تھی۔ای سی ایل میں نام عدالت یا تفتیشی اداروں کی سفارش پر ڈالا جاتا ہے۔ جن لوگوں کے نام ای سی ایل میں ڈالے گئے ان میں سے کچھ پہلے ہی باہر ہیں۔خیال رہے کہ حکومت نےمنی لانڈرنگ کیس کی جے آئی ٹی میں شامل 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالے ہیں۔