لاہور : سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس نے قبضہ کیس اور کھوکھر برادران کیخلاف از خود نوٹس کی سماعت کی جس دوران عدالت عظمیٰ نے اینٹی کرپشن کو رپورٹ کی روشنی میں کارروائی اور 10 روز میں کھوکھر پیلس خالی کروا کر رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق کیس کی سماعت کے دوران ڈی جی اینٹی کرپشن نے کھرکھر پیلس سے متعلق رپورٹ جمع کروائی اور اس موقع پر عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ کھوکھربرادران نے آپ کی ریٹائرمنٹ تک ضمانتیں کرائی ہیں،انہیں یہ تاثر ہے آپ کی ریٹائرمنٹ کے بعدکوئی نہیں پوچھے گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے پتہ ہے انہوں نے بعدمیں میرے ساتھ کیاکرناہے۔ چیف جسٹس کو ڈی جی اینٹی کرپشن کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں گیا ہے کہ کھوکھرپیلس میں شامل 40 کنال سرکاری اراضی پرقبضہ ہے، کھوکھربرادران نے 10 میں سے ایک شخص کوادائیگی کی ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم مشترکہ کھاتہ توڑرہے ہیں،  کھوکھرپیلس خالی کریں،سامان اٹھالیں،وزیراعظم ہاوس کی طرح کھوکھرپیلس میں بھی تعلیمی ادارہ بناددیتے ہیں، پاکستان میں یہ بدمعاشی نہیں چلنے دوں گا، کھوکھربرادران کی مرضی کیخلاف مکھی بھی وہاں پرنہیں مارسکتی، اینٹی کرپشن مقدمات درج اورقانون کے مطابق کارروائی کرے، قبضے کاکلچرکھوکھربرادران نے متعارف کرایا۔چیف جسٹس نے کھوکھرپیلس خالی کراکر 10 روزمیں رپورٹ پیش کرنےکاحکم بھی جاری کر دیا ہے ۔