کوالا لمپور: حال ہی میں شاہی راویات کے برخلاف مس ماسکو سے شادی کرنے والے ملائیشیا کے 49 سالہ بادشاہ محمد نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ملائیشیا کے بادشاہ محمد (پنجم) اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ دو سال سے تختِ بادشاہی کی رونق بننے والے بادشاہ ملائیشیا کی تاریخ میں مستعفی ہونے والی پہلے بادشاہ بن گئے ہیں۔بادشاہ محمد کا انتخاب بھی روایت کے مطابق 5 سال کے لیے ہوا تھا تاہم محض دو سال بعد ہی وہ غیر متوقع طور پر مستعفی ہوگئے ہیں۔ بادشاہ کے استعفے کی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بادشاہ کے اچانک استعفے کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اول نومنتخب وزیراعظم مہاتیر محمد اور بادشاہ کے درمیان اختلافات ہیں اور دوسری وجہ بادشاہ کی شاہی خاندان کی مرضی اور روایات کے برخلاف مس ماسکو سے شادی کرنا ہے۔مستعفی ہونے والے بادشاہ نے دو مہینے کی طبی تعطیلات کے بعد حال ہی میں کار مملکت سنبھالا تھا۔ تعطیلات کے دوران سوشل میڈیا پر بادشاہ کی روس میں سابق مس ماسکو کے ساتھ شادی کی خبروں کا چرچا بھی رہا تھا اور مستعفی ہونے کی ممکنہ وجہ بھی یہی ہے۔بادشاہ کے غیر متوقع استعفے کے باعث 9 شاہی خاندانوں کے نمائندوں پر مشتمل کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری ہے۔ اجلاس میں نئے بادشاہ کے انتخاب کے لیے مشاورت اور ووٹنگ کی جائے گی اور آئندہ 5 سال کے لیے نئے بادشاہ کے نام کا اعلان کیا جائے گا۔