ملتان(صفدرعلی بخاری سے)کرنسی ڈی ویلیو کرنے کے نتیجے میں پاکستان کو ہونے والے مجموعی نقصان کا اندازہ 20 ہزار ارب روپے ہے ، معیشت کی بحالی کیلئے کرنسی کو سال قبل والی سطح پر لایا جائے ۔ ان خیالات کا اظہار پاک اٹالین بزنس ایسوسی ایشن کے صدر اور معروف صنعتکار شیخ احسن رشید نے سرائیکستان قومی کونسل کے چیئرمین پروفیسر شوکت مغل ‘ صدر ظہور دھریجہ اور سرائیکی رہنما سید اختر گیلانی سے ملاقات کے دوران کیا ۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بنک اور وزارت خزانہ نے یہ کہہ کر کرنسی ڈی ویلیو کی کہ اس سے 15 فیصد برآمدات بڑھے گی مگر اتنے بڑے نقصان کے باوجود برآمدات میں دو فیصد بھی اضافہ نہیں ہوا۔ شیخ احسن رشید نے کہا کہ موجودہ حکومت کے بر سر اقتدار آنے کے بعد کرنسی کو 32.7 فیصد ڈی ویلیو کیا گیا ، جس سے ملکی معیشت قرضوں کے بوجھ تلے مزید دب گئی ۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش، ہندوستان،پاکستان اور افغانستان ایک ہی طرح کی معیشت رکھنے والے ممالک ہیں مگر کیا وجہ ہے کہ ان ممالک کی کرنسی اپ ہو رہی ہے اور پاکستان کی کرنسی ڈی ویلیو ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات کرنسی ڈی ویلیو کرنے سے نہیں پیداوار بڑھانے سے بڑھے گی ۔اس موقع پر سید اختر گیلانی نے اپنی کتاب ’’ وسیب دی آواز ‘‘ شیخ احسن رشید کو پیش کرتے ہوئے وسیب کیلئے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ پروفیسر شوکت مغل نے وسیب کو در پیش مسائل کا ذکر کیا۔ اس پر شیخ احسن رشید نے کہا کہ وسیب کو ترقی کرنی چاہئے ، لوگوں کو روزگار ملنا چاہئے ، صوبہ بننا چاہئے ، وسیب میں انڈسٹری بننی چاہئے ، تعلیمی ادارے اور یونیورسٹیاں بننی چاہئیں ۔ اس سے ملک مضبوط اور مستحکم ہوگا ، صوبہ نہ صرف یہ کہ خطے میں بسنے والے تمام افراد بلکہ پاکستان کی بھی ضرورت ہے۔