تحریر : شیخ مجید عابد

کراچی میں 27نومبر 2018 کو تجاوزات کے خلاف اور قبضہ مافیا کے خلاف ہونے والے آپریشن میں کورنگی مہران ٹاون میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دوران سب سے ذیادہ نقصان ایک پرائیویٹ کمپنی میگا انجینئرنگ کو پہنچایا گیا۔ جس کی اب تک کوئ بھی تحقیقات نہ کی گئی ہے۔ میگا انجینئرنگ کمپنی پاکستان اور چائنہ کے ساتھ مل کر بہت سارے ترقیاتی کام کر چکی ہے اور مذید کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس وقت میگا انجینئرنگ کلین گرین پاکستان پروگرام پر کام کر رہی تھی کہ یہ حادثہ پیش آ گیا۔ افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان میں جرائم پیشہ لوگوں کو ذیادہ اہمیت حاصل ہے ان لوگوں کے مقابلے میں جو لوگ ملک اور قوم کے کی بہتری اور بھلائ لیے اک عزم رکھتے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں میگا انجینئرنگ کو ڈرا دھمکا کر کورنگی مہران ٹاون سے بے دخل کر دیا گیا ہے اور کوئ ادارہ ان کی بات سننے کو تیار نہی۔ جبکہ اس جگہ پر قبضہ مافیا اپنی اسٹیٹ ایجنسی بنا کر بیٹھ گیا ہے۔ سی ای او میگا انجینئرنگ کے پچھ گچھ کے دوران معلوم ہوا کہ وہ عدالت کا دروازہ بھی کھٹکٹھا چکے ہیں اور پولیس سے بے شمار دفعہ مل چکے حد یہ کہ ایڈیشنل آئ جی تک کو درخواست کر چکے ہیں لیکن کوئ بھی ان کی بات سننے کو اور کوئ کاروائ کرنے کو تیار نہی۔ جبکہ پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ اس واقعہ میں ملوث اور فائرنگ کرنے والے افراد کو انھوں نے موقع پر خود دیکھا ہے۔ لیکن ادارے شائد حقیقت جاننا نہی چاھتے یا وہ اس سے بھی زیادہ جانتے ہیں۔ اگر تو ایسا ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب تک اصل لوگ گرفتار کیوں نہی ہوۓ۔ یا پھر اس تمام کام میں میں جان بوجھ کر دیر کی جا رہی ہے اور ملزمان کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ کراچی پولیس پر ایک سوالیہ نشان ہے۔